• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 24 اپریل 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر، صرف ایک ڈھانچہ باقی: طبی عہدیدار

طبی عملہ انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہے کیونکہ علاج کے مکمل مراحل کی کڑیاں غائب ہو چکی ہیں جس کا براہ راست اثر فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے معیار پر پڑ رہا ہے

بدھ 22-04-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
غزہ کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر، صرف ایک ڈھانچہ باقی: طبی عہدیدار
0
SHARES
11
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جنوبی غزہ کی پٹی میں طبی ریلیف کے ڈائریکٹر بسام زقوت نے نظامِ صحت کی غیر معمولی ابتری پر خبردار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ نظام اب محض ایک ظاہری ڈھانچے کی صورت میں کام کر رہا ہے جس میں روح نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی۔ وسیع پیمانے پر تشخیصی عمل کی معطلی اور عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے بنیادی طبی خدمات کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔

بسام زقوت نے صحافتی بیانات میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل کی حکام کی جانب سے طبی سامان کی فراہمی پر عائد کردہ پابندیوں نے شعبہ صحت کو کم ترین سطح کے ایک ایسے نظام میں بدل دیا ہے جو صرف ہنگامی اور عارضی حل پر انحصار کر رہا ہے۔ ایک طرف معمولی نوعیت کے اوزار لانے کی اجازت دی جاتی ہے تو دوسری طرف انتہائی اہم اور خصوصی آلات پر سخت پابندی ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ اس تلخ حقیقت کی وجہ سے بیماریوں کی تشخیص کی صلاحیت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے کیونکہ دل کی دھڑکن چیک کرنے والی مشینیں (ای سی جی)، ہارمونز کے ٹیسٹ اور کینسر کی جلد تشخیص کرنے والے بنیادی آلات غائب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کا بھی شدید بحران ہے جس میں دائمی امراض کی ادویات کی عدم دستیابی اور اینٹی بائیوٹکس سمیت کینسر کی ادویات کی بھاری قلت شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طبی عملہ انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہے کیونکہ علاج کے مکمل مراحل کی کڑیاں غائب ہو چکی ہیں جس کا براہ راست اثر فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے معیار پر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بگڑتے ہوئے معاشی و سماجی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین ماحولیاتی اور صحت کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ صاف پانی کی قلت، کچرے کے ڈھیر اور پناہ گزین مراکز میں حد سے زیادہ ازدحام وہ عوامل ہیں جو بیماریوں اور وباؤں کے پھیلاؤ کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں جن پر قابو پانا موجودہ کمزور طبی وسائل کے باعث انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

اسی تناظر میں غزہ کی وزارت صحت کے انڈر سیکرٹری ماہر شامیہ نے بھی طبی مراکز کی تباہی اور بنیادی خدمات کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطرات مقامی آبادی کی زندگیوں کو بری طرح گھیرے ہوئے ہیں۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق نسل کشی کی اس جنگ کے آغاز سے اب تک 1800 سے زائد طبی مراکز کو تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ شعبہ صحت کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 1.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

یہ انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ حصار اور فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ اگرچہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بمباری اور روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کی شہادتوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

Tags: DoctorsgazaHealth EmergencyHealthcare CrisisHospitalsHumanitarian CrisisInfrastructureMedical SystemMiddle Eastpalestine
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.