غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے انسانی حقوق مرکز نے غزہ کی پٹی میں ماحولیاتی اور طبی صورتحال کی بے مثال ابتری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مرکز نے واضح کیا کہ اس کی فیلڈ ٹیم نے چوہوں، موذی جانوروں اور نقصان دہ حشرات کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا مشاہدہ کیا ہے، جبکہ قابض اسرائیل محاصرے کے ذریعے ان آفات سے نمٹنے کے لیے ضروری بنیادی سامان کی آمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔
بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے دسمبر سنہ 2025ء تک 9 لاکھ ٹن کچرا جمع ہو چکا ہے۔ قابض اسرائیل سرکاری کچرا کنڈیوں تک کچرے کی منتقلی کے عمل کو روک رہا ہے، اس کے علاوہ کچرا جمع کرنے والی 100 سے زائد گاڑیوں کو تباہ یا ضبط کر لیا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لیپٹوسپائروسس جیسی بیماریاں اب محض خدشہ نہیں بلکہ تلخ حقیقت بن چکی ہیں۔ مرکز نے اس اقدام کو شہریوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ماحولیاتی وبا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے تعبیر کیا ہے۔