غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے تحریک کے سرکردہ رہنما خلیل الحیہ کے صاحبزادے عزام الحیہ کو حملے کا نشانہ بنانا غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کے جاری جرائم کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ الحیہ خاندان نے مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کی راہ میں اپنے کئی بیٹوں، پوتوں اور بھائیوں کو بطور شہید پیش کیا ہے۔
حازم قاسم نے ایک اخباری بیان میں مزید کہا کہ قابض اسرائیل ان حملوں کے ذریعے خلیل الحیہ سے انتقام لینے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ فلسطینی عوام کے مفادات کی سچی نمائندگی اور میدان میں مزاحمت کے موقف کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خلیل الحیہ "ابو اسامہ” فلسطین کے پہاڑوں کی طرح ہمیشہ کی طرح ایک مضبوط پہاڑ رہیں گے اور وہ آزادی و استقلال کے حصول تک اپنی قوم اور مزاحمت کے ساتھ کیے گئے عہد پر قائم رہیں گے۔
اسی تناظر میں حماس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں شہریوں کو نشانہ بنانے میں تیزی، شہر غزہ کے محلوں الدرج اور الزیتون اور خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی پر بمباری، جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور دیگر زخمی ہوئے، شرم الشیخ میں منظور شدہ سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزی اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کا تسلسل ہے۔
حماس نے ایک اخباری بیان میں مزید کہا کہ قابض حکومت سیز فائر معاہدے کی آڑ میں غزہ کی پٹی کے شہریوں کے خلاف اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے کسی ایسے ردعمل کا سامنا نہیں جو اسے معاہدے اور بین الاقوامی و انسانی قوانین کی ان سنگین خلاف ورزیوں سے باز رکھ سکے۔
حماس نے امریکہ کی انتظامیہ اور شرم الشیخ معاہدے کے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئیں تاکہ قابض اسرائیل کو لگام دی جا سکے اور اسے غزہ کی پٹی میں شہریوں پر اپنی جارحیت روکنے کا پابند بنایا جائے۔
جماعت نے اقوام متحدہ اور اس کے اداروں، جن میں سر فہرست امن کونسل ہے، سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسے موقف اختیار کریں جو فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور غزہ کی پٹی میں شہریوں پر ہونے والے حملوں کو بند کرائیں۔