• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 8 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ میں تعلیم کا چوتھا سال بھی نسل کشی کے سائے میں، عالمی مداخلت کا مطالبہ

غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تعلیمی نظام مسلسل چوتھے سال بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔

پیر 07-09-2026
in خاص خبریں, رپورٹس, غزہ
0
غزہ میں تعلیم کا چوتھا سال بھی نسل کشی کے سائے میں، عالمی مداخلت کا مطالبہ
0
SHARES
1
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تعلیمی نظام مسلسل چوتھے سال بھی تباہی کے دہانے پر ہے، اس بات پر زور دیا کہ سکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی سازوسامان کو پہنچنے والی وسیع پیمانے پر تباہی نے تعلیم کے حق کو غزہ میں جاری نسل کشی کے سب سے بڑے اور نمایاں شکاروں میں بدل دیا ہے۔

مرکز نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کی گھڑیاں لاکھوں بچوں کے لیے محفوظ اور باقاعدہ تعلیم کے بنیادی لوازمات سے محرومی کے عالم میں آ رہی ہیں، جو سالہا سال کی بمباری، تخریب کاری اور جبری نقل مکانی کا شاخسانہ ہے، اس نے واضح کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ پڑھائی میں عارضی تعطل سے بڑھ کر معاشرے کی اس صلاحیت کو منہدم کرنے کی ایک منظم سازش ہے جس کے ذریعے وہ علم پیدا کرتا اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔

مرکز نے اپنے پاس موجود سرکاری اور میدانی اعداد و شمار کی بنیاد پر انکشاف کیا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک تعلیمی عمر کے بیس ہزار اکاون (20,051) سے زائد طلبہ و طالبات جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جبکہ انیس ہزار آٹھ سو چھیاسی سے زائد طلبہ جبری نقل مکانی، سفر، گرفتاری یا شدید زخمی ہونے کے باعث تعلیمی نظام سے باہر ہو چکے ہیں۔

اسی طرح سرکاری اور فلاحی شعبوں اور ‘انروا’ کے تعلیمی اداروں سے وابستہ532 سے زائد معلمین اور معلمائیں بھی شہید ہو چکے ہیں، جن کے علاوہ وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم کے سات سو انہتر (769) سے زائد انتظامی، خدمات اور دفتری کارکنان بھی اس بربریت کا لقمہ بن چکے ہیں۔

مرکز نے اس بات کی نشاندہی کی کہ انسانی جانوں کا یہ زیاں تعلیمی عمل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، کیونکہ محض سکولوں کے دروازے دوبارہ کھول دینے سے طلبہ اور اساتذہ کے اس عظیم فقدان کو پورا نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص ایسے وقت میں جب تعلیم کو اس کے طبعی معیار پر واپس لانے کی ادارہ جاتی اور انسانی سکت دن بہ دن زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے۔

آبادیاتی اور تعلیمی خسارے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ

مرکز کے تخمینوں کے مطابق جنگ سے پہلے غزہ کی پٹی میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد 609,751 تھی اور طبعی شرحِ نمو کے تناسب سے توقع کی جا رہی تھی کہ سنہ 2026ء-2027ء کے تعلیمی سال میں یہ تعداد بڑھ کر 665,769 تک پہنچ جائے گی۔

تاہم موجودہ تخمینے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شہادتوں، اندھا دھند گرفتاریوں کے واقعات، سفر اور زخموں کے اثرات کا حساب لگانے کے بعد متوقع اصل تعداد 625,832 سے زیادہ نہیں ہوگی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ سے پہلے کے متوقع آبادیاتی راستے کے مقابلے میں تقریباً 39,937 طلبہ کا مجموعی اور جمع شدہ خسارہ ہو چکا ہے۔

مرکز اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ اشارہ اس اثر کو بے نقاب کرتا ہے جو پڑھائی میں تعطل سے کہیں زیادہ گہرا ہے، کیونکہ جنگ اب اس پوری نسل کے حجم کو متاثر کر رہی ہے جسے آنے والے سالوں میں تعلیمی نظام کی بنیاد بننا تھا۔

دوسری طرف سکول کے دنوں کی تعداد سالانہ دو سو دنوں سے گھٹ کر ساٹھ دن رہ گئی ہے، اور ہفتہ وار گھنٹوں کی تعداد تیس سے کم ہو کر بارہ رہ گئی ہے، جبکہ نصابی مضامین کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بعض شعبوں میں عملی اور تجرباتی سرگرمیوں میں ساٹھ فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

مرکز کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کا تسلسل ایک ایسے تعلیمی خسارے کے انبار کا سبب بنتا ہے جس کی تلافی کرنا انتہائی دشوار ہے، بالخصوص ان معصوم بچوں کے لیے جو لگاتار کئی سالوں سے باقاعدہ تعلیم کی روشنی سے محروم رکھے گئے ہیں۔

سکولوں اور ان کے سازوسامان کی ہولناک تباہی

جنگ سے پہلے غزہ کی پٹی میں584 تعلیمی عمارات موجود تھیں۔ سنہ 2026ء کے محکمہ عمارات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق96 عمارات کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا ہے 44 عمارات کو جزوی نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ درجنوں دیگر عمارات کو شدید، درمیانے اور ہلکے درجے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی طرح کم از کم 9,308 بلیک بورڈز، ایک لاکھ بیالیس ہزار دو سو بیالیس میزیں اور چار لاکھ چالیس ہزار نشستیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ تدریسی عملے کے (26,776) اراکین اپنے فرائض کی انجام دہی سے معطل ہو چکے ہیں، جن میں بائیس ہزار تیس اساتذہ بھی شامل ہیں۔

مرکز نے اس بات کی تصدیق کی کہ نقصان صرف عمارات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے تعلیمی ماحول کے تمام اجزاء کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جن میں سازوسامان، عملہ اور سکولوں کو چلانے، ریکارڈ محفوظ رکھنے اور طلبہ و عملے کے امور کی نگرانی کرنے کی انتظامی صلاحیت بھی پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔

تعلیم کی بربادی پر بین الاقوامی تحقیقات کا تقاضا

غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سکولوں اور تعلیمی تنصیبات کو دی گئی سول املاک کی حفاظت حاصل ہے، اور انہیں نشانہ بنانا امتیاز، تناسب اور حملے میں ضروری احتیاط کے اصولوں کے تابع ہے۔

اسی طرح تعلیم کا حق اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے کے آرشیکل تیرہ اور بچوں کے حقوق کے کنونشن کے آرٹیکل اٹھائیس اور انتیس کے تحت پوری طرح ضمانت شدہ ہے۔

مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ سکولوں، عملے یا طلبہ کو نشانہ بنانے کے حوالے سے مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرنا ہر واقعے کی اس کے حالات کی روشنی میں جانچ پڑتال کا متقاضی ہے، جس میں ہدف بننے والی تنصیب یا شخص کی نوعیت، اس کے کسی بھی فوجی استعمال کا وجود اور امتیاز، تناسب اور احتیاطی تدابیر کے اصولوں کی پاسداری کا دائرہ شامل ہے۔

دوسری طرف تباہی کا وسیع دائرہ، اس کا تسلسل اور بار بار دہرایا جانا، مرکز کے مطابق، ان واقعات کو الگ تھلگ حادثات کے بجائے ایک متصل اور سوچے سمجھے سلسلے کے طور پر دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "تعلیم کی نسل کشی” کی اصطلاح تعلیمی نظام، علم اور اس کے اداروں کی منظم تباہی کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تاہم یہ اصطلاح بین الاقوامی قانون میں نسل کشی کے جرم کی کوئی خود مختار تعریف تشکیل نہیں دیتی۔

مرکز نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلسطینی آبادی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے مجموعی پس منظر کا جائزہ لیتے وقت تعلیم کی تباہی قانونی اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے، بشمول اس بات کی تحقیق کے کہ آیا وقوع پذیر ہونے والے افعال ان بین الاقوامی جرائم میں شامل ہیں جو محاسبے کا تقاضا کرتے ہیں۔

فوری مطالبات

غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی اور پے در پے خلاف ورزیوں کو روکنے اور سویلین آبادی اور تعلیمی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں۔

انہوں نے بین الاقوامی آزاد تحقیقاتی کمیشن اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ، اساتذہ اور سکولوں کو نشانہ بنانے اور تعلیمی نظام کی تباہی کو پٹی میں کیے جانے والے بین الاقوامی جرائم کی فائلوں کے تحت ویسی ہی تفتیش کا مستحق قرار دیں جیسی اس کی سنگینی کا تقاضا ہے۔

مرکز نے یونیسکو، یونیسف اور ‘انروا’ سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے، تعلیمی سامان کی ترسیل اور قابلِ مرمت سکولوں کی بحالی کے لیے فوری مداخلت کریں، اور تمام ممالک اور عطیہ دہندگان سے پرزور اپیل کی کہ وہ تعلیمی تنصیبات کی تعمیرِ نو اور تباہ شدہ سازوسامان کے ازالے کے لیے فوری فنڈنگ فراہم کریں۔

انہوں نے بچوں اور اساتذہ کے لیے وسیع تر نفسیاتی و سماجی امداد اور معاوضاتی تعلیم کے پروگراموں کی فراہمی، اور تمام بچوں کی باقاعدہ اور محفوظ تعلیمی عمل میں واپسی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مرکز نے خبردار کیا کہ چوتھے سال بھی تعلیم کی یہ تاریک تباہی صرف تعلیمی سالوں کے ضائع ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ پوری نسل کے مستقبل اور غزہ میں فلسطینی معاشرے کی اپنے اداروں کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے تاریک کر دینے کا ایک ہولناک خطرہ ہے۔

Tags: Education CrisisEducation Crisis in GazaEducation Under OccupationgazaGaza EducationGaza GenocideGaza NewsGaza WarHumanitarian Crisisinternational interventionIsraeli AttackspalestinePalestine NewsPalestinian EducationPalestinian Students
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.