• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 11 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ میں بچوں کا قتلِ عام جاری، عالمی تحفظ اور احتساب کے لیے فوری مطالبات

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا نفاذ بھی بچوں کے لیے وہ امن اور تحفظ نہیں لایا جس کی انہیں طویل عرصے سے توقع تھی، کیونکہ حملوں اور شہادتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

جمعہ 11-09-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
غزہ میں بچوں کا قتلِ عام جاری، عالمی تحفظ اور احتساب کے لیے فوری مطالبات
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ –(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا نفاذ بھی بچوں کے لیے وہ امن اور تحفظ نہیں لایا جس کی انہیں طویل عرصے سے توقع تھی، کیونکہ حملوں اور شہادتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر فلسطینی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اتحاد نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ محض بیاناتِ مذمت کی روایتی روش سے باہر نکلے اور بچوں کو نشانہ بننے سے بچانے اور اس میں ملوث اسرائیلی مجرموں کا محاسبہ کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اتحاد نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی بچوں کا قتل اور زخمی ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے موجود ضمانتیں انتہائی کمزور ہیں اور بچوں کی حفاظت کسی بھی سیاسی مصلحت کا شکار نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ اس تنازع کا فریق نہیں ہیں۔

بیان میں اس امر پر شدید تنقید کی گئی کہ اگر قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ نہیں رکتا تو جنگ بندی کا انسانی جواز ہی ختم ہو جاتا ہے اور بچوں کی مسلسل شہادتیں اس معاہدے کو بے معنی بنا دیتی ہیں اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی ضمانتوں پر اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔

جنگ بندی کے بعد 300 سے زائد معصوم بچوں کی شہادت

یہ مطالبات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ اور بچوں کے حقوق کے ادارے "یونیسیف” نے اکتوبر 2025ء میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی غزہ پٹی میں فلسطینی بچوں کی شہادتوں کا سلسلہ جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ 6 اگست کو جاری کردہ اپنی ایک مفصل رپورٹ میں "یونیسیف” نے انکشاف کیا تھا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد صرف 300 دنوں کے اندر کم از کم 300 بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں، جو اوسطاً روزانہ ایک بچے کی شہادت بنتی ہے، جبکہ اس دوران سینکڑوں بچے شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا تھا کہ اس معاہدے کے باوجود جو کہ عسکری کارروائیوں کو معطل کرنے اور امداد کی فراہمی کا رستہ ہموار کرنے کے لیے تھا، بچوں کے لیے تشدد کا یہ سلسلہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا۔

جون کے آخر تک "یونیسیف” نے 10 اکتوبر 2025ء سے اب تک 277 بچوں کی شہادتوں کو دستویز کیا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنگ بندی غزہ کے بچوں کے لیے امن کا پروانہ ثابت نہیں ہوئی۔

اگست کے آخر میں تنظیم نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ محض پانچ دنوں کے اندر کم از کم چار بچے شہید ہوئے، جن میں دو سال اور چار سال کے دو معصوم بچے، اپنے ہی خیمے میں نشانہ بننے والی دس سالہ بچی، اور زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑنے والا سولہ سالہ نوجوان شامل ہے، جبکہ دیگر بچوں کی زندگیاں بھی ان حملوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہیں۔

خونریزی کا تسلسل اور بڑھتے ہوئے اعداد و شمار

غزہ کی وزارتِ صحت کی تازہ ترین رپورٹ (8 ستمبر تک) کے مطابق، 7 اکتوبر 2023ء کو جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 73,662 ہو چکی ہے، جبکہ 174,627 افراد زخمی ہیں۔

وزارت کے مطابق 11 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 1,355 شہداء، 4,516 زخمی جبکہ 827 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں، جبکہ اب بھی کئی لاشیں ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں۔

یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے ساتھ منسلک ہونے والا نسبتاً سکون شہریوں کے لیے حقیقی تحفظ میں تبدیل نہیں ہو سکا، کیونکہ حملے اور نقل و حرکت پر پابندیاں آج بھی بچوں سمیت تمام شہریوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے 4 ستمبر کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ غزہ کے بچے اب بھی ان فضائی حملوں کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار رہے ہیں جو آبادی والے علاقوں پر کیے جا رہے ہیں۔

وزارتِ صحت کے ریکارڈ کے مطابق، 26 اگست سے 2 ستمبر کے درمیان 31 فلسطینی شہید اور 86 زخمی ہوئے، جس کے بعد جنگ بندی کے اعلان سے لے کر اس تاریخ تک کل شہداء کی تعداد 1,334 اور زخمیوں کی تعداد 4,429 ہو چکی ہے۔

بچوں کو درپیش خطرات صرف بمباری اور گولیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ غزہ کے اکثر باسی بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تباہی، بنیادی خدمات کے شدید فقدان، جبری نقل و حرکت، بھیڑ بھاڑ، آلودہ پانی اور بگڑتے ہوئے سیوریج کے نظام کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

فلسطینی سول سوسائٹی کے تنظیموں کے اتحاد نے عالمی برادری، سرپرست ممالک اور جنگ بندی کے ضامن ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور سیاسی ذمہ داریاں پوری کریں، بچوں کے قتل کے تمام واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروائیں، بچوں کو حقیقی بین الاقوامی تحفظ فراہم کریں، طبی و انسانی امداد کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنائیں، اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر استثنائی سلوک (impunity) کے اس کلچر کو ختم کریں۔

Tags: Child KillingsgazaGaza childrenGaza WarpalestinePalestinian children
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.