غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) سمندر کے نیلے کناروں پر نصب ایک خستہ حال اور تار تار خیمے اور ساحل کے ایک چھوٹے سے کیفے کے درمیان اپنی کچی عمر کی سولی پر لٹکا بارہ سالہ فلسطینی بچہ رمضان یعقوب غبان ایک ایسے کرب ناک شب و روز سے گزر رہا ہے جو کسی بھی عام بچے کے ہنستے کھیلتے بچپن سے کوسوں دور ہے۔
جس گھڑی رمضان کو اپنے سکول کی جماعت کے اندر ہونا چاہیے تھا، یا اپنے ہم عمر پھول جیسے بچوں کے ساتھ کھلونوں سے کھیلنا چاہیے تھا، اس کی سحر سکول کے بستہ کے بجائے صبح ساڑھے چھ بجے سلگتی ہوئی مجبوریوں سے ہوتی ہے۔ وہ چولہا جلانے اور پانی کو اگالنے کے لیے لکڑی کے نادیدہ ٹکڑے اور پلاسٹک کے ریزے چنتا ہے، پھر سمندر کے کنارے بنی ایک معمولی سی چائے کی دوکان کا رخ کرتا ہے، جہاں وہ اپنے معصوم اور ناتواں بہن بھائیوں کے دو وقت کی روٹی اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو جوڑنے کی خاطر روزانہ تقریباً بارہ گھنٹے تک خون پسینہ ایک کر دیتا ہے۔
برطانوی اخبار ’گارڈین‘ نے بائیس ستمبر سنہ 2026ء کو شائع ہونے والی اپنی دل دہلا دینے والی رپورٹ میں رمضان کی اس المناک زندگی کے ایک شب و روز کی تصویر کشی کی ہے۔ یہ تحریر اس سلسلے کا ایک دردناک باب ہے جو قابض دشمن کی وحشیانہ جنگ کے اپنے چوتھے سال کے دہانے پر پہنچنے کے دوران غزہ کی لہو رنگ پٹی میں پانچ عام فلسطینی انسانوں کے اجڑے ہوئے معمولات کا احاطہ کرتی ہے، اور یہ بے نقاب کرتی ہے کہ کیسے اس ظالم جنگ نے ان کی زندگی کے ایک ایک نقش کو مٹا کر رکھ دیا ہے۔
ایک صبح جو سلگتی ہوئی لکڑی کی تلاش سے جنم لیتی ہے
رمضان صبح ساڑھے چھ بجے بیدار ہوتا ہے۔ اس کا ٹھکانہ بیت لاہیہ کے اجڑے ہوئے دیار سے ہجرت کرنے کے بعد نُوِیری ساحلی پٹی پر نصيرات کے مقام پر سمندر کے سینے پر جھومتے ریت کے ٹیلوں پر نصب ایک بے آسرا خیمہ ہے۔
اس خیمے میں وہ اپنے ان بے کس بہن بھائیوں کے ساتھ کسمپرسی کی زندگی کاٹ رہا ہے جہاں اب چھت کا نام و نشان مٹ چکا ہے؛ بھوکے چوہوں نے اس خیمے کے کناروں کو بری طرح کتر ڈالا ہے ، اس کے بوسیدہ کپڑے میں جگہ جگہ سوراخ کر دیے ہیں، جن میں سے سرد ہوائیں اور ریت کے طوفان بے روک ٹوک اندر تک اتر آتے ہیں۔
اس بدنصیب گھرانے کے پاس دو وقت کی روٹی پکانے کے لیے گیس کا ایک قطرہ تک میسر نہیں، یہی وجہ ہے کہ رمضان اپنے دن کا آغاز یخ بستہ فضا میں چنگاری سلگانے اور پانی ابالنے کی خاطر لکڑی کے ننھے ٹکڑے اور پلاسٹک کے ٹکڑے ڈھونڈنے سے کرتا ہے۔
یہ ننھا مجاہد خیموں اور دہکتی ریت کے طوفانوں کے بیچ جلانے لائق کسی سہارے کی تلاش میں مار امارا پھرتا ہے، کیونکہ اس اجڑے خطے میں اب درختوں کے نام پر صرف ویرانی باقی بچی ہے۔ ایک بار اسے پلاسٹک کے کچھ ٹکڑے اور لکڑی کا ایک ایسا بوسیدہ تنکا ہاتھ لگا جسے لہریں ساحل پر پھینک گئی تھیں، اس نے اپنے بھائی عدی کے ساتھ مل کر اس ادھوری آگ پر کانٹوں بھری جھاڑیوں کی ڈالیاں جلا کر بڑی مشکل سے چائے تیار کی تھی۔
بیت لاہیا کی مٹی سے جنم لینے والے اس بچے کی دنیا اس کی تین بہنوں اور ایک بھائی پر سمٹی ہوئی ہے۔
خیمے کی تاریکی سے رزق کی بھٹی تک
صبح کے اس سوگوار ناشتے کے بعد رمضان اپنے ننھے قدموں سے کام کی تلخ حقیقت کی طرف چل پڑتا ہے۔ وہ کیفے اس کے خیمے سے بمشکل تین سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور وہ ریت کے ناہموار کناروں پر پیدل چلتے ہوئے چند لمحوں میں وہاں پہنچ جاتا ہے۔
اس راہ گزر میں وہ بے بس ماہی گیروں کو اپنی تھکی ہوئی آنکھوں سے سمندر میں جال پھینکتے، مچھلیاں اور کیکڑے پکڑتے اور انہیں کوڑیوں کے مول بیچتے دیکھتا ہے اور بعض اوقات وہ چند لمحوں کے لیے رک کر ان کے مقدر کے شکار کو پانی سے باہر نکلتے تکتا رہ جاتا ہے۔
مگر بارہ برس کے اس نازک بچے کے لیے اس کیفے کی دہلیز پر قدم رکھنا ایک طویل، تھکا دینے والی اور روح فرسا یومیہ محنت کا اعلان ہوتا ہے۔
رمضان طلوع آفتاب سے لے کر شام کے اندھیروں تک لگاتار بارہ گھنٹے اس بھٹی میں جڑتا ہے اور بعض اوقات اس کا یہ عذاب اس وقت تک طویل ہو جاتا ہے جب تک رات کے دس نہیں بج جاتے اور آخری گاہک بھی وہاں سے رخصت نہیں ہو جاتا۔
اس کے ذمے سونپے گئے فرائض میں بھاری میزوں کو گھسیٹنا، کرسیوں کو ترتیب دینا، میزوں کو اٹھا کر سمندر کے ساحل تک لانا اور پھر رات کی تاریکی میں انہیں واپس سمیٹنا، اس ویران جگہ کی صفائی کرنا، میزوں کے گرداگرد ریت کے تودوں کو برابر کرنا اور پھیلتے ہوئے کچرے کے ڈھیروں کو سمیٹنا شامل ہے۔
ایک روز اس نے کچھ خوشحال لوگوں کو کیفے کے گوشے میں باربی کیو بناتے دیکھا، جب فضا میں بھنی ہوئی غذا کی مہک پھیلی تو اس کے دل کے نہاں خانوں میں اپنے اس اجڑے ہوئے گھر کی یاد تازہ ہو گئی جو اب خاک ہو چکا تھا، اس نے سوچا کہ کاش آج اس کا گھر سلامت ہوتا اور وہ بھی اپنے پیاروں کے ساتھ اس خوشبو سے اپنے پیٹ کی آگ بجھا رہا ہوتا۔
جب وہ لوگ وہاں سے اٹھ کر گئے تو اپنے پیچھے چپس کا ایک بھرا ہوا پیکٹ چھوڑ گئے، اور رمضان بھوک سے تڑپ رہا تھا، اس نے بے اختیار اس پیکٹ کو اٹھایا اور اپنے اندر کی آگ کو دبانے کے لیے اسے کھا گیا۔
میں زندہ رہنے کے لیے مجبوراً مزدوری کرتا ہوں
رمضان کا نم لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مشقت اس کی روح تک کو چھلنی کر رہی ہے، مگر وہ اپنے ننھے بہن بھائیوں کے چہروں کی بھوک مٹانے کے لیے اس جہنم نما مزدوری کا اسیر ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ آس پاس کے خوش نصیب بچوں کا بچپن اپنے والدین کی شفقت کے سائے میں کھیل کود میں گزر رہا ہے، جب کہ اس کے حصے میں اپنی معصوم بہنوں کے لیے دو لقمے اور ایک گھونٹ پانی کا بندوبست کرنے کی سنگین سولی آئی ہے۔ وہ روتے ہوئے بتاتا ہے کہ جب گھر میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہوتی تو اس کی چھوٹی بہنیں بھوک سے سسک سسک کر رونے لگتی ہیں۔
یوں والد کے سائے سے محروم ہو جانے اور سفاک جنگ کے طوفان میں پورا گھرانہ اجڑ جانے کے بعد اس کائنات کی پوری ذمہ داری بارہ سال کے اس معصوم بچے کے ناتواں کندھوں پر آن پڑی ہے۔
ایک شفیق باپ جو چار طویل مہینے ملبے کے نیچے مدفون رہا
اس خون آشام جنگ کے شعلے بھڑکنے سے پہلے رمضان کے والد بیت لاہیہ کے ہرے بھرے کھیتوں میں اسٹرابیری چننے کا فخر کرتے تھے اور ساتھ ہی پرانی اشیا کو اکٹھا کر کے اپنا گھر چلاتے تھے، مگر اب وہ رزق کمانے والی وہ ہستی مٹی میں مل چکی تھی۔
دل دہلا دینے والا المیہ یہ ہے کہ رمضان کے والد اس وقت سفاکیت کا نشانہ بنے جب وہ اپنے چچا اور پھوپھی کے گھر پر ہونے والی قیامت کے بعد انہیں بحفاظت نکالنے گئے تھے، کیونکہ خبر ملی تھی کہ آس پاس کی کسی عمارت کو ملیہ میٹ کر دیا گیا ہے۔
یہ خاندان اس وقت پناہ گزینوں کے لیے بنے ایک اسکول میں پناہ لیے ہوئے تھا جب ایک عورت نے آ کر ان کے شفیق باپ کے قتل کی قیامت خیز خبر سنائی۔
پہلے تو اس گھرانے کے کسی فرد کے کانوں نے اس سچ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، مگر جب وہ ہستیاں اس مقام پر پہنچیں تو وہاں سوائے تباہی اور ملبے کے کچھ نہ تھا۔
رمضان اور اس کے گھر والوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے باپ کی لاش کو اس ملبے میں تلاش کرنے کی دیوانہ وار کوششیں کی، مگر دشمن کی اندھی بمباری اور بارود کی بارش نے انہیں وہاں سے قدم اکھاڑنے پر مجبور کر دیا۔
وہ پیارا باپ چار لمبے مہینے تک اس ٹھنڈے ملبے تلے دبا رہا، جب طویل مدت بعد یہ اجڑے ہوئے مکین اپنے گھر لوٹے تب جا کر وہ اس بے جان جسم کو نکال کر قبرستان کی خاک کے حوالے کر پائے۔
ایک اور جان لیوا فرض: پانی کی بوند بوند کے لیے جنگ
دوپہر کی دھوپ جب سر پر آتی ہے تو ٹھیک ڈیڑھ بجے علاقے میں ایک پیاسا پانی کا ٹینکر نمودار ہوتا ہے۔ اس لمحے رمضان اپنے کام کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی بہنوں کی انگلی تھام کر تیزی سے اس پانی کے چشمے کی طرف بھاگتا ہے۔
وہ دونوں مل کر پینے اور کپڑے دھونے کے لیے لگاتار پندرہ کین پانی سے بھرتے ہیں، پھر انہیں ایک ایسی ریہڑی پر لادتے ہیں جو پلاسٹک کے صندوق اور ٹوٹے پھوٹے پہیوں پر کھڑی ہے، اور اس لکڑی کے ڈنڈے سے بنی گاڑی کو ریت کے طوفانوں میں کھینچتے ہوئے اپنے خیمے تک لاتے ہیں۔
رمضان آہ بھر کر کہتا ہے کہ ان پانی کے ٹرکوں کے آنے کا کوئی اصول نہیں؛ کبھی یہ سورج نکلنے سے پہلے آ جاتے ہیں اور کبھی سورج ڈھلنے کے بعد۔
اور وہ خیمہ جسے وہ اپنا گھر کہتا ہے، وہاں رات کو خونخوار چوہے اس کی رہی سہی کائنات کو بھی کتر ڈالتے ہیں، یہاں تک کہ وہ پانی کی پلاسٹک کی بوتلوں تک کو کاٹ ڈالتے ہیں۔
اب اس خاندان کے پاس کوئی ایک بھی محفوظ برتن نہیں بچا ہے؛ ہر برتن سے پانی رس رس کر بہہ جاتا ہے، اور وہ مجبوری میں ٹوٹی پھوٹی بوتلوں سے کام چلاتے ہیں۔
دو کمروں کے خوشحال آشیانے سے لے کر چوہوں کی قید خیمے تک
اس قہر ٹوٹنے سے پہلے، رمضان اپنے پیاروں کے ساتھ دو خوابوں جیسے کمروں، ایک روشن بیٹھک، غسل خانہ اور باورچی خانے پر مشتمل ایک مسکراتے گھر میں بستا تھا۔
وہ صبح سویرے اپنے اسکول کے بستہ کے ساتھ نکلتا، اپنے ساتھیوں کے ساتھ بینچ پر بیٹھتا، ہنستے کھیلتے ناشتہ کرتا اور چھٹی کی گھنٹی پر میدان میں دوڑتا تھا۔
مگر آج اس کی دنیا ایک تاریک خیمے کی قید ہے، جہاں رات کو زمین سے اٹھتی ہوئی نمی اور چوہوں کے دانت اس کے خوابوں کو کترتے ہیں۔
اس ننھے دل میں اب آنے والی سردیوں کا خوف خنجر کی طرح چبھتا ہے، جب آسمان سے برستی بارش اور طوفانی ہوائیں اس کمزور خیمے کو اڑا لے جائیں گی اور پانی ان کے بستروں تک بہہ نکلے گا۔
وہ جانتا ہے کہ اب کی بار کی سردی جان لیوا ہو گی جب سمندر کی طغیانی ساحل کو چیرتی ہوئی ان کے خیموں کا رخ کرے گی اور سب کچھ ڈوب جائے گا۔
بھوک اور جنگ کی واپسی کا لرزہ خیز خوف
رمضان کے دل میں صرف سر چھپانے کی چھت چھن جانے کا ڈر نہیں ہے، بلکہ وہ ہر پل اس ہولناک سائے میں جیتا ہے کہ جانے کب دوبارہ بارود برسنا شروع ہو جائے۔
وہ خوف سے کانپتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے سب سے زیادہ اس بات کا ڈر ہے کہ یہ جنگ پھر لوٹ آئے گی، جس کیفے میں وہ پس رہا ہے وہ راکھ کا ڈھیر بن جائے گا، یا جب وہ سڑک پر چل رہا ہوگا تو کوئی میزائل اس کے جسم کو چھلنی کر دے گا، یا اس کے خیمے کے قریب کوئی اور بستی ملبے کا ڈھیر بن جائے گی۔
اسے بھوک کے ان دنوں کی یاد ستاتی ہے جو انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھے۔
وہ قحط کے ان دنوں کو بیان کرتا ہے جب اس کا پورا گھرانہ لگاتار تین یا چار دن تک پانی کے ایک قطرے اور روٹی کے ایک ٹکڑے کو ترس جاتا تھا، اور وہ زیکیم کے امدادی مرکز میں ایک لقمے کی بھیک لینے کے لیے میلوں پیدل چل کر جاتا تھا۔
وہ آنکھوں میں آنسو لیے بتاتا ہے کہ اس نے وہاں انسانوں کو آٹے کی ایک بوری اور ایک کلو گرام میدے کے لیے لڑتے اور ایک دوسرے کی لاشوں پر گرتے دیکھا ہے۔
اس نے یہ سب اپنی معصوم آنکھوں سے دیکھا ہے، اس نے لاشوں کے ڈھیر دیکھے ہیں، اور اسے وہ فائرنگ آج بھی یاد ہے جب گولیاں ان کے کانوں کے پاس سے گزرتی تھیں۔
لوگ اپنی جان بچانے کے لیے مٹی پر لیٹ جاتے تھے، اور فضا میں سائیں سائیں کرتی ہوئی موت ناچتی تھی، جو کوئی سر اٹھاتا وہیں ڈھیر ہو جاتا تھا، وہ خدا سے گڑگڑا کر دعا کرتا ہے کہ وہ قیامت خیز دن اس کی زندگی میں دوبارہ کبھی نہ لوٹے۔
بارہ گھنٹے کی سفاک مزدوری کا صلہ: محض دس شیکل
دن بھر کی اس روح فرسا مشقت کے بعد جب رمضان کی شام ڈھلتی ہے تو اس کے تھکے ماندے ہاتھوں میں صرف دس شیکل کی حقیر رقم رکھی جاتی ہے۔
وہ تلخ لہجے میں کہتا ہے کہ جنگ سے پہلے یہ دس شیکل اس کے لیے کسی خزانے سے کم نہ تھے جس سے بہت کچھ خریدا جا سکتا تھا، مگر آج اس مہنگائی اور تباہی کے دور میں یہ اتنے کم ہیں کہ اس سے صرف ایک ٹکڑا پنیر اور ایک سوکھی روٹی ہی خریدی جا سکتی ہے۔
ان تمام دکھوں کے باوجود اس کی روح میں سمندر کی قربت کا ایک چھوٹا سا کونا زندہ ہے؛ کیفے سمندر کے بالکل پاس ہے، اور جب وہ اس کی نمکین ہوا کو اپنے پھیپھڑوں میں اتارتا ہے تو اسے ایک انوکھی سکون کی لہر محسوس ہوتی ہے۔
اس نے خود ہی اپنے طور پر تیراکی کی کلا سیکھی ہے، اور جب کبھی اسے کام کے شور سے چند لمحوں کی مہلت ملتی ہے، وہ نیلے پانیوں میں اتر جاتا ہے تاکہ اپنی جلتی ہوئی روح کو ٹھنڈا کر سکے۔
ایک بچے کے وہ معصوم خواب جنہیں بارود بھی نہیں کچل سکا
ان تمام قہر سامانیوں کے باوجود، رمضان کے ننھے دل میں ایسے ارمان زندہ ہیں جنہیں یہ جنگ راکھ نہیں کر سکی۔
وہ عزم کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر سمندر کا لائف گارڈ بنے گا، تاکہ وہ ڈوبنے والے معصوم انسانوں کی زندگیاں بچا سکے جو اس سمندر کی لہروں میں کھو جاتے ہیں۔
اس کے سینے میں ایک ڈاکٹر یا ایک بے باک وکیل بننے کا خواب بھی پل رہا ہے۔
مگر اس کی سب سے بڑی اور آخری آرزو بس اتنی ہے کہ یہ ظالم جنگ ہمیشہ کے لیے تھم جائے، ان کے گرے ہوئے گھر دوبارہ تعمیر ہوں، قابض غاصب اس دھرتی سے ہمیشہ کے لیے دفع ہو جائیں اور زندگی پھر سے اپنے رنگ میں لوٹ آئے۔
تب وہ فخر سے کہتا ہے کہ اسے اس جہنم نما مزدوری کی ضرورت نہیں رہے گی، اور وہ اپنے بستے کو گلے لگا کر پھر سے اسکول کی ان روشن جماعتوں میں لوٹ جائے گا۔
وہ جنگ کے پہلے دن سے لے کر آج تک کبھی اسکول کی دہلیز پر قدم نہیں رکھ سکا، حالانکہ اسے کتابوں سے عشق تھا اور اس کی روح میں عربی زبان کی مٹھاس بسی ہوئی تھی۔
اب تو بچوں کے حصے کا کھلونا بھی موت بن چکا ہے
سورج غروب ہونے کے بعد بھی رمضان کے پاس اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسنے کا وقت نہیں ہوتا۔
رات کے سناٹے میں جب کیفے کے تمام گاہک جا چکے ہوتے ہیں، وہ کبھی کبھار اپنے بچپن کے چند ساتھیوں سے ملنے نکلتا ہے۔
پرانے زمانوں میں یہ بچے رنگ برنگی کاغذ کی پتنگیں بناتے اور انہیں نیلے آسمان پر چھوڑتے تھے، مگر اب یہ معصوم کھیل بھی قابض دشمن کے لیے ایک جرم بن چکا ہے۔
رمضان کا دل بیٹھے ہوئے لہجے میں کہتا ہے کہ اب انہوں نے پتنگیں اڑانا بالکل چھوڑ دی ہیں، کیونکہ پچھلے دنوں آسمان پر اڑنے والی ان معصوم کاغذی پتنگوں کو بھی میزائلوں کا نشانہ بنا دیا گیا تھا، اور تین پھول جیسے بچے اس وقت شہید ہو گئے تھے جب وہ ہوا میں پتنگ اڑا رہے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ اب اس کے ہاتھوں نے پتنگ بنانا چھوڑ دی ہے۔
رات کے آخریپہر جب اس کا دن سمٹتا ہے، وہ چپ چاپ سمندر کے خالی ساحل پر پیدل چلتا ہوا اپنے خیمے میں لوٹتا ہے، ٹھنڈے پانی سے اپنے چہرے کا غبار دھوتا ہے، اپنے میلے کپڑے بدلتا ہے، خاشعانہ انداز میں سجدہ ریز ہوتا ہے، دو سوکھی روٹیاں کھاتا ہے اور گہری نیند میں ڈوب جاتا ہے، تاکہ صبح کے ساڑھے چھ بجنے پر پھر سے اسی اذیت ناک صبح کا سامنا کر سکے۔
یوں بارہ سال کے اس معصوم بچے کے شب و روز غزہ کی اس نئی نسل کا مرقع ہیں جن کا بچپن اسکول، کھلونوں اور کتابوں سے چھین کر خیموں، لکڑیوں، پیاس، بھوک، اور موت کے سائے میں دھکیل دیا گیا ہے، مگر ان کے وہ ننھے خواب آج بھی ایک ایسے روشن سویرا کی آس لگائے بیٹھے ہیں جو اس اندھیری جنگ کے خاتمے کے بعد طلوع ہوگا۔