غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی میڈیا اور بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس میں صیہونی فوج کے اندرونی ذرائع اور فوجیوں کے بیانات پر مبنی ایک انتہائی ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ انکشافات اس بات کو بے نقاب کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی پر جاری جنگ میں صیہونی فوج نے کس طرح مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ڈیجیٹل سسٹمز کا بےدریغ استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں، بچوں اور خاندانوں کو منظم طریقے سے قتل کرنے اور انہیں محض اعداد و شمار یا "قابلِ قبول نقصان” میں تبدیل کرنے کی ایک مکروہ فیکٹری بنا رکھی ہے۔
"نازا”: حملے سے پہلے شہریوں کی اموات کا حساب کتاب
برطانوی اخبار "دی گارڈین” کی حالیہ رپورٹ اور 24 اسرائیلی فوجیوں اور انٹیلی جنس افسران کے انٹرویوز پر مبنی نئی دستاویزی فلم "نازا” (NAZA) نے دنیا کے سامنے صیہونی فوج کی ہلاکت خیز پالیسیوں کا ایک اور سیاہ باب عیاں کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق "نازا” صیہونی فوج کی وہ مخفف اصطلاح (Acronym) ہے جو کسی فوجی ہدف پر بمباری کے نتیجے میں متوقع طور پر جاں بحق ہونے والے عام شہریوں کی تعداد کا تخمینہ لگانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس نظام کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ شہریوں کی اموات کوئی حادثاتی یا غیر متوقع نقصان نہیں ہوتیں، بلکہ حملہ کرنے سے پہلے باقاعدہ حساب لگایا جاتا ہے کہ اس حملے میں کتنے معصوم شہری لقمہ اجل بنیں گے۔
دستادویزی فلم کے شرکاء نے بتایا کہ بعض اوقات یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ جس گھر کو ہدف بنایا جا رہا ہے اس میں بچے اور خاندان کے دیگر افراد موجود ہیں۔ اس کے باوجود رات کے وقت عین اس وقت بمباری کی جاتی ہے جب پورا خاندان گھر کے اندر موجود ہوتا ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق بعض بڑے اہداف کے لیے سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کو پہلے ہی سے "قابلِ قبول” قرار دے دیا جاتا ہے۔
موبائل فون: دشمن کا سب سے بڑا مخبر اور موت کی علامت
خبر رساں ادارے "رائیٹرز” کے مطابق صیہونی فوج کے انٹیلی جنس سسٹمز نے لاکھوں فلسطینیوں کے موبائل فونز کے ڈیٹا کو ٹریک کرنے کے لیے ایک وسیع جال بچھا رکھا ہے۔
ایک بچے کے فون پر آنے والی معمولی سی ڈیجیٹل سرگرمی یا پیغام مثلاً یہ ظاہر کرنا کہ اس کا باپ گھر کے اندر موجود ہے، اس پورے گھر کو بمباری کا نشانہ بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح ایک معصوم بچے کا ہاتھ میں پکڑا ہوا موبائل فون اس کے پورے خاندان کے لیے موت کا پروانہ بن جاتا ہے، اور گھر کے اندر موجود پورا خاندان اس ڈیجیٹل کیلکولیشن کا حصہ بن جاتا ہے۔
"لاوینڈر”، "انجل” اور "میرے والد کہاں ہیں؟”: مصنوعی ذہانت کا قتل عام کا نیٹ ورک
غزہ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا یہ اسکینڈل نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل اپریل 2024ء میں بھی جریدے "+972” اور ویب سائٹ "لوکل کال” نے انکشاف کیا تھا کہ صیہونی فوج نے اہداف کے تعین کے لیے کئی خطرناک سسٹمز بنا رکھے ہیں۔
-
"لاوینڈر” (Lavender): یہ نظام ایک سیکنڈ میں ہزاروں فلسطینیوں کے نام بطور مشتبہ افراد یا حماس و جہاد اسلامی کے اراکین کے درج کر سکتا ہے۔ ایک مرحلے پر اس نظام نے تقریباً 37,000 افراد کو ہدف کی فہرست میں شامل کیا۔ افسران کو ایک ہدف کی منظوری دینے کے لیے صرف 20 سیکنڈ دیے جاتے تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں تھی۔
-
"میرے والد کہاں ہیں؟” (Where’s Daddy?): یہ نظام اس بات کا سراغ لگاتا تھا کہ مطلوبہ شخص کب اپنے گھر اور اہل خانہ کے پاس واپس پہنچا ہے تاکہ اسے گھر کے اندر ہی نشانہ بنایا جا سکے۔
-
"انجل” (Angel): یہ سسٹم عمارتوں اور تنصیبات کے نقشے اور ڈیٹا تیار کرتا تھا تاکہ فضائی حملے کے لیے موزوں ترین عمارت کا انتخاب کیا جا سکے۔
