پیرس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فرانسیسی جماعت فرانس ابیہ کے سربراہ اور فرانسیسی صدارت کے امیدوار جان لوک میلینشون نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کے خلاف اور بنجمن نیتن یاھو کی فاشسٹ حکومت کو روکنے والی قوتوں کی پہلی صفوں میں شامل رہے۔
جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میلینشون نے کہا کہ نسل کشی کے آغاز سے ہی قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو روکنے میں ناکامی کا نتیجہ ہے کہ اسے لبنان تک جارحیت پھیلانے اور وہاں بھی اسی طرح قتل عام جاری رکھنے کا موقع ملا جیسا کہ وہ غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے۔
فرانسیسی سیاستدان نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکاء کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جنہوں نے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش میں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی افراد کو یونان میں اتار دیا گیا جہاں ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی جبکہ دیگر کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب قابض اسرائیل کی بحریہ نے غزہ کی پٹی کی سمندری حدود سے ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر فلوٹیلا کا راستہ روکا۔
میلینشون نے بحری جہاز کو روکنے کے عمل کو بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جو کچھ ہوا وہ کسی بھی قانونی کور یا مینڈیٹ کے بغیر کیا گیا۔
فرانسیسی صدارتی امیدوار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں ان تقریبا 10 ہزار فلسطینی اسیران کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے جو بنجمن نیتن یاھو کی فاشسٹ اور نسل پرست حکومت کے زیر انتظام قابض صہیونی عقوبت خانوں میں انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ فلسطینی اسیران کے حقوق کا دفاع ان کی سیاسی جدوجہد اور موقف کا بنیادی حصہ رہے گا۔