نیویارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے ایک ویڈیو کلپ پر تبصرہ کرتے ہوئے قابض اسرائیلی فوج کو دنیا کی سب سے زیادہ گری ہوئی اور پست ترین فوج قرار دیا ہے جس میں صہیونی فوجی ایک معصوم فلسطینی بچے پر وحشیانہ تشدد کر رہے ہیں۔
فرانسسکا البانیز نے اتوار کے روز اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ انہوں نے یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہنے کے لیے کافی کچھ دیکھ لیا ہے، ان کا اشارہ ان سنگین خلاف ورزیوں کی طرف تھا جن کی انہوں نے فلسطینی علاقوں میں اپنے کام اور صورتحال کی نگرانی کے دوران دستاویز سازی کی ہے۔
اسی تناظر میں فرانسسکا البانیز نے انکشاف کیا کہ جب سے انہوں نے اپنی وہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں قابض اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے تب سے انہیں مسلسل بڑھتی ہوئی دھمکیوں کا سامنا ہے، انہوں نے اپنی زندگی کو ایک خطرناک اور اتار چڑھاؤ والے سفر سے تشبیہ دی ہے۔
اخبار گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق ان کے موقف اور رپورٹس کی وجہ سے انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں اور وہ مسلسل خطرے کے احساس میں زندگی گزار رہی ہیں۔
فرانسسکا البانیز کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ اور مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج کے مجرمانہ طرز عمل پر عالمی سطح پر تنقید میں شدت آ رہی ہے اور ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے احتساب اور تحقیقات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔