غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ شہر میں شہری دفاع کی ٹیموں نے نسل کشی کی جاری جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی جانب سے تباہ کیے گئے الصبرہ محلے میں ایک گھر کے ملبے تلے سے 8 شہداء کی باقیات نکال لی ہیں۔
شہری دفاع نے ایک پریس بیان میں وضاحت کی کہ ان کی ٹیموں نے غزہ شہر کے جنوب میں واقع الصبرہ کے علاقے میں ’الصفدی‘ خاندان کے گھر کے ملبے تلے لاپتہ ہونے والے 8 شہداء کی لاشیں اور باقیات نکالنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیمیں اسی علاقے میں ’جاد اللہ‘ خاندان کے تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے لاپتہ ہونے والے دیگر شہداء کی تلاش جاری رکھنے کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔
شہری دفاع کی ٹیمیں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے تعاون سے نویں روز بھی ملبے تلے سے شہداء کی باقیات نکالنے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹیموں نے گذشتہ ہفتے بروز ہفتہ الصبرہ محلے میں ’الماسہ‘ عمارت کے ملبے سے 6 شہداء کی باقیات نکالی تھیں۔
تلاش اور بازیابی کرنے والی ٹیموں کو وسائل کی کمی، قابض فوج کی مسلسل فوجی کارروائیوں اور کچھ ایسی جگہوں پر لاشوں کی موجودگی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے جہاں پہنچنا ناممکن ہے۔
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے بعد سے اب تک ملبے تلے سے 799 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
فلسطینی مرکزی ادارہ برائے شماریات کے اندازوں کے مطابق، غزہ کی پٹی میں اب بھی تقریباً 11 ہزار افراد لاپتہ ہیں، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان شہداء کی ہے جن کی لاشیں اب تک نہیں نکالی جا سکیں۔