غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں ثالثوں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں جاری ہیں، جس میں ’کونسل فار پیس‘ کے نمائندے نکولے ملادی نوف بھی شریک ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد جنگ بندی معاہدے کی شقوں کے نفاذ کے طریقہ کار پر بات چیت کرنا اور اس کے مختلف مراحل سے منسلک راستوں کو مکمل کرنا ہے۔
ترجمان حازم قاسم نے بدھ کے روز ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ مذاکرات معاہدے کی تمام تفصیلات کو نافذ کرنے کے لیے عملی انتظامات کرنے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے مشترکہ نکات تک پہنچا جائے گا جنہیں تمام فریقین قبول کریں، خاص طور پر ثالثوں کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کے دوران حاصل ہونے والی وسیع تر ہم آہنگی کے بعد۔
حازم قاسم نے وضاحت کی کہ موجودہ کوششیں پہلے مرحلے کے بقیہ کاموں کو مکمل کرنے اور معاہدے کے دوسرے مرحلے میں مؤثر طریقے سے منتقل ہونے پر مرکوز ہیں، جس کے لیے ایک جامع وژن موجود ہے جو متفقہ ذمہ داریوں کے نفاذ کی ضمانت دیتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کل ہونے والے مذاکراتی اجلاسوں میں پہلے مرحلے کے بقیہ کاموں کو نافذ کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے کافی قربت دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے مرحلے سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی، جن میں غزہ کی پٹی میں قومی کمیٹی کا داخلہ، بین الاقوامی افواج کا معاملہ، اور فلسطینی ہتھیاروں کے مسئلے کو ایک ایسے منطقی، معقول اور قابلِ اتفاق انداز میں حل کرنا شامل ہے جس پر مختلف فریقین متفق ہو سکیں۔
’حماس‘ کے ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تحریک زیر بحث مختلف مسائل کے حوالے سے لچک اور مثبتیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، جس کا مقصد ایسے سمجھوتوں تک پہنچنا ہے جو معاہدے کو کامیاب بنانے اور اس کے مراحل کو نافذ کرنے میں معاون ثابت ہوں۔
حازم قاسم نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے مفادات ہی جماعت کے موقف کا بنیادی تعین کنندہ ہیں، جس کا مقصد جارحیت کو روکنا، انسانی امداد کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانا اور تعمیر نو کے عمل کا آغاز کرنا ہے۔
یاد رہے کہ ’حماس‘ نے 13 جون سنہ 2026ء کو ’روڈ میپ‘ منصوبے پر فلسطینی دھڑوں کا جواب حوالے کیا تھا، جو انہیں 19 اپریل سنہ 2026ء کو کونسل فار پیس کے نمائندے نکولے ملادی نوف سے موصول ہوا تھا۔
تحریک نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ فلسطینی دھڑوں نے اس منصوبے کے ساتھ ذمہ داری اور مثبتیت کا مظاہرہ کیا ہے، اور پہلے مرحلے کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا، خاص طور پر انسانی پروٹوکول اور غزہ کی پٹی پر تمام قسم کی جارحیت کو روکنے کے حوالے سے۔
گذشتہ ہفتے کے دوران قاہرہ میں ’حماس‘ اور فلسطینی دھڑوں کی مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں کے ساتھ ملاقاتوں کا ایک سلسلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک متفقہ فلسطینی موقف تشکیل پایا جو ثالثوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
یہ ملاقاتیں غزہ پر جنگ بندی کے معاہدے کے عملی نفاذ، پہلے مرحلے کی شقوں کو مکمل کرنے، فوجی کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگ کو روکنے، گزرگاہوں کو کھولنے اور پٹی کے امور چلانے کے لیے مقرر کردہ قومی کمیٹی کے داخلے کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں۔