نیو یارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے 77 وفود کا اجتماعی بائیکاٹ قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاھو کی تقریر سے ٹھیک پہلے عمل میں آیا، سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر بحث کا سبب بن گیا ہے، جہاں صارفین نے اس منظر کو اسرائیل کے لیے ایک "زور دار طماچہ” اور اس کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کا ثبوت قرار دیا ہے۔
ہال کے مناظر میں دکھایا گیا کہ بنیامین نتن یاھو کی تقریر شروع ہونے سے پہلے ہی اکثریت وفود نے ہال چھوڑ دیا، جبکہ قابض ریاست کے وزیراعظم الجھن اور پریشانی کی حالت میں دکھائی دیے، اس دوران چند ہی شرکاء اپنی نشستوں پر باقی رہے اور احتجاجی و مذمتی نعرے بلند کیے گئے۔
عبرانی رپورٹس کے مطابق 77 ممالک کے نمائندے بنیامین نتن یاھو کے خطاب سے غیر حاضر رہے، کیونکہ کئی وفود نے تقریر شروع ہونے سے پہلے ہی ہال چھوڑ دیا تھا، جبکہ دیگر ممالک کے نمائندے شروع ہی سے اپنی نشستوں پر موجود نہیں تھے۔
وفود کے جانے کے اس منظر کو اسرائیلی میڈیا میں بھی بڑی اہمیت ملی، چنانچہ چینل 14 نے اس اقدام کو "اسرائیل کے منہ پر تھوکنے” کے مترادف قرار دیا، جبکہ روزنامہ "یدیعوت احرونوت” نے اسے "ڈرامائی احتجاج” سے تعبیر کیا۔
ایک اور تجزیے میں روزنامہ "ہارٹز” نے بنیامین نتن یاھو کے خطاب کو بورنگ اور تکرار سے بھرپور قرار دیا، یہ مانا کہ یہ خطاب بنیادی طور پر ان کے دائیں بازو کے حامیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے تھا، جو کہ قابض حکومت کے سربراہ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے سیاق و سباق میں تھا۔
عالمی میڈیا کی سطح پر اخبار "گارڈین” نے اس منظر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بنیامین نتن یاھو نے غزہ میں "مشن تمام کرنے” کا عزم ظاہر کیا، جبکہ وفود نے اپنے فیصلے کے ذریعے اس کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے ہال چھوڑ دیا۔
اخبار "واشنگٹن پوسٹ” نے وفود کے انخلاء کو اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف "عالمی سطح پر شدید ردعمل” کی علامت قرار دیا، جبکہ برطانوی اخبار "انڈیپینڈنٹ” نے لکھا کہ بنیامین نتن یاھو ویسے بھی ہر صورت میں صرف ایک ہی سامع سے مخاطب تھے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے اندر بنیامین نتن یاھو کی تقریر کے ساتھ ہی، ٹائمز اسکوائر کے اطراف میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا، جس میں شرکاء نے ایسے پلے کارڈز اٹھائے جن میں غزہ پٹی پر قابض ریاست کی جارحیت بند کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
یہ منظر نامہ غزہ پٹی پر اسرائیلی جنگ کے تسلسل اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جبکہ پٹی اور فلسطینی سرزمین کے تئیں اسرائیلی پالیسیوں پر بین الاقوامی تنقید مسلسل بڑھ رہی ہے۔