• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 18 اگست 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے دنیا کے 19 شہروں میں احتجاجی مظاہرے

فلسطین سپورٹ پلیٹ فارم کے سربراہ عثمان نوری قبق تبه نے بتایا کہ یہ مظاہرے 19 شہروں میں ایک ہی وقت میں منعقد کیے جائیں گے، جن کا بنیادی مقصد پٹی کے باسیوں کے لیے خوراک، دوا، سرپناہ اور طبی دیکھ بھال کی فراہمی کا مطالبہ بلند کرنا ہے۔

منگل 18-08-2026
in خاص خبریں, عالمی خبریں, فلسطین
0
غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے دنیا کے 19 شہروں میں احتجاجی مظاہرے
0
SHARES
1
VIEWS

استیبول – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ترکیہ کے شہر استنبول سمیت دُنیا بھر کے 19 شہر وں میں عالمی یومِ انسانیت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، متفقہ طور پر بیک وقت مظاہرے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا مقصد جاری محاصرے اور اسرائیلی پابندیوں کے سائے میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کو یقینی بنانا ہے۔

استنبول میں پیر کے روز ترک سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین سپورٹ پلیٹ فارم کے سربراہ عثمان نوری قبق تبه نے بتایا کہ یہ مظاہرے 19 شہروں میں ایک ہی وقت میں منعقد کیے جائیں گے، جن کا بنیادی مقصد پٹی کے باسیوں کے لیے خوراک، دوا، سرپناہ اور طبی دیکھ بھال کی فراہمی کا مطالبہ بلند کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ استنبول میں طے شدہ یہ احتجاجی مظاہرہ شہر کے ایشیائی حصے میں واقع اسکودار کے میدان میں مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے، جبکہ گرینچ کے وقت کے مطابق ڈھائی بجے منعقد ہوگا۔

پریس کانفرنس میں صدقہ تاشی ایسوسی ایشن کے سربراہ کمال اوزدال، انسانی حقوق اور آزادی کے لیے قائم فلاحی ادارے (IHH) کے سیکرٹری جنرل احمد گوکسون اور دنیز فنری ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد جنکیز نے بھی شرکت کی۔

قبق تبہ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا ایک ایسی صورتحال دیکھ رہی ہے جہاں شہریوں کو ان کی بنیادی ضروریات سے غیر معمولی طور پر محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ خوراک، دوا، سرپناہ اور طبی دیکھ آہنگ بنیادی انسانی حق ہے، کوئی احسان نہیں۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ غزہ میں دسیوں ہزار سویلین اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ بچوں، مریضوں، خواتین اور سب سے زیادہ ضرورت مند طبقوں کو خوراک، دوا اور دیگر بنیادی ضروریات کے حصول میں مسلسل بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے۔

قبق تبہ نے قابض اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جس کے تحت غزہ کی پٹی میں روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ طے پایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق طے شدہ تعداد میں سے روزانہ صرف 100 سے 200 ٹرک ہی اندر داخل ہو پاتے ہیں، جو پٹی میں خوراک، پانی، ادویات اور رہائش کی ضروریات کے بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

قبق تبہ نے استنبول کے شہریوں، تنظیموں اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ بدھ کے روز اس احتجاجی تحریک میں بھرپور شرکت کریں، اور واضح کیا کہ ان سرگرمیوں میں 19 ممالک کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک مہم بھی شامل ہوگی، تاکہ غزہ تک امداد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عوامی دباؤ کو وسیع کیا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں بھی یہ تحریکیں جاری رہیں گی، تاکہ انسانی امداد کے لیے راستہ کھولنے اور پٹی کے شہریوں کو ان کی بنیادی ضروریات تک رسائی دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

دوسری جانب یورو میڈیٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے رواں ماہ 9 اگست کو خبردار کیا تھا کہ قابض اسرائیل جان بوجھ کر ٹرکوں اور گوداموں کو تباہ کرکے اور ڈرائیوروں کو نشانہ بنا کر غزہ کی پٹی میں ٹرانسپورٹ اور ترسیل کے نظام کو مفلوج کر رہا ہے، اس کے علاوہ متبادل ٹرکوں اور اسپیئر پارٹس کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

آبزرویٹری نے غزہ میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ ناهض شحيبر کے حوالے سے بتایا کہ 1200 ٹرکوں کے بیڑے میں سے صرف 25 فیصد ٹرک ہی اسرائیلی بمباری سے محفوظ رہ سکے ہیں، جبکہ حملوں کے نتیجے میں 20 سے زائد ڈرائیور شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکتوبر 2025ء میں جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کے 4 شہداء بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ 15 ڈرائیوروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن میں سے کچھ تقریباً دو سال سے حراست میں ہیں۔

یہ تمام اقدامات غزہ کی پٹی میں بڑھتے ہوئے انسانی المیے کے تناظر میں سامنے آ رہے ہیں، جہاں سرکاری میڈیا آفس کے مطابق 8 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری جنگ میں قابض فوج نے تقریباً 90 فیصد سول بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے تعمیرِ نو کی لاگت کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔

موصولہ اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ امداد کے داخلے پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں اور پٹی کے مختلف علاقوں میں انسانی ضروریات شدت اختیار کر چکی ہیں۔

Tags: 19 CitiesgazaGaza BlockadeGaza humanitarian crisisGaza SiegeGlobal ProtestsHumanitarian AidpalestinePro Palestine Protests
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.