غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ ’یونیسیف‘ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تین سو دن کے دوران غزہ کی پٹی میں کم از کم تین سو بچے شہید ہو چکے ہیں،اس نے جنگ کے خاتمے کے وعدوں کے باوجود بچوں کے مسلسل جانی نقصان پر شدید خبردار کیا۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیجبیدر نے پریس بیانات میں کہا کہ جنگ بندی "جو اوسطاً ہر روز ایک بچے کی شہادت کا سبب بنتی ہے، درحقیقت بچوں کو دھوکا دے رہی ہے، سیکڑوں دیگر بچے زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں اکثریت شدید زخمیوں کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے بچے اب بھی "تشدد کے اس خاتمے” کا انتظار کر رہے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ حالیہ بیانات جنہوں نے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے، جن میں جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے اقدامات شامل ہیں، بچوں کے قتل کو روکنے کے لیے امید کی ایک کرن فراہم کرتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پچھلے وعدے پورے نہیں کیے گئے، اور اس بار معاہدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل ہونا چاہیے۔
’یونیسیف‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کریں، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کا قانون، اس بات کی تاکید کے ساتھ کہ بچوں کا تحفظ کیا جائے اور بنیادی اشیاء اور خدمات تک ان کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
اس تناظر میں غزہ میں گورنمنٹ میڈیا آفس نے آج انکشاف کیا کہ قابض افواج نے جنگ بندی کے معاہدے کی تین سو دن کے دوران 4,091 خلاف ورزیاں کیں، جن کے نتیجے میں 1,254 فلسطینی شہید اور4,121 دیگر زخمی ہو گئے، اس کے علاوہ معاہدے کے نفاذ کی مدت کے دوران ایک سو انسٹھ 159 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
تازہ ترین فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکی حمایت کے ساتھ پٹی پر قابض افواج کی طرف سے مسلط کردہ نسل کشی کی جنگ جاری ہے، جس کے نتیجے میں 73 ہزار سے زیادہ شہداء اور ایک لاکھ چوہتر ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔