غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں میٹرک کی ایک طالبہ قابض اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہو گئیں۔ یہ دردناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب طالبہ اپنے حتمی امتحانات میں سے ایک امتحان دینے کے لیے جا رہی تھیں۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ طالبہ رغد عاشور غزہ شہر میں ایک کیفے کی طرف جاتے ہوئے قابض اسرائیل کے فضائی حملے کی زد میں آ کر شہید ہو گئیں۔
اسی تناظر میں ہلال احمر فلسطین کی ٹیموں نے اعلان کیا ہے کہ قابض طیاروں کی جانب سے غزہ شہر کے مغربی جانب جوال کمپنی کے قریب الرحاب مال کے سامنے ایک گاڑی پر کیے گئے حملے میں ایک خاتون شہید اور تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ہلال احمر نے تصدیق کی ہے کہ طبی عملے نے جائے وقوعہ پر ہی زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے اور وہ علاقے میں مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ فجر کے اوقات سے اب تک غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پانچ نئی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں غزہ شہر میں شہریوں کو نشانہ بنانا اور غزہ اور خان یونس کے مشرقی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔
غزہ میں ثانویہ عامہ کے طلباء انتہائی غیر معمولی اور مشکل حالات میں اپنے امتحانات دے رہے ہیں، کیونکہ جاری جنگ نے تعلیمی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے اور روایتی امتحانات کے بجائے آن لائن امتحانات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
طلباء اپنے امتحانات دینے کے لیے ایسے کیفے اور مقامات کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جہاں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات میسر ہوں، جبکہ یہ وہ طلباء ہیں جو گذشتہ تین سال سے اپنے سکولوں میں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے ہیں۔
واضح رہے کہ فلسطین میں ثانویہ عامہ کے امتحانات کا آغاز گذشتہ ہفتے بروز ہفتہ ہوا تھا، جس میں مغربی کنارے، قطاع غزہ اور فلسطین سے باہر 89 ہزار سے زائد طلباء و طالبات شریک ہیں۔
وزارت تعلیم و اعلیٰ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق امتحانات میں شریک ہونے والے طلباء کی کل تعداد مغربی کنارے میں 51 ہزار 499، قطاع غزہ کے اندر 37 ہزار 698 ہے، جبکہ قطاع غزہ کے 1941 طلباء فلسطین سے باہر امتحانات دے رہے ہیں۔
اپنی جانب سے وزارت تعلیم و اعلیٰ تعلیم کے ترجمان صادق الخضور نے امتحانات کے لیے تمام تکنیکی اور لاجسٹک انتظامات مکمل ہونے کی تصدیق کی ہے اور وضاحت کی کہ غزہ کے طلباء کے امتحانات مکمل طور پر ’وائز سکول‘ سافٹ ویئر کے ذریعے آن لائن منعقد کیے جا رہے ہیں۔