• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
بدھ 26 اگست 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے !

ایک انتظامیہ غزہ کا انتظام سنبھالے گی مگر یہ کسی اعتبار سے فلسطینی اتھارٹی نہیں ہوگی۔

منگل 25-08-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے !
0
SHARES
3
VIEWS

ترجمان حماس، نمائندہ خصوصی برائے ایران و پاکستان ڈاکٹر خالد قدومی

(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ پر جارحیت اور اس کی مزاحمت بھی عجیب ہے۔ ایک اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ اپنوں نے اسے معمول کی ایک جنگ سمجھا گویا کہ امریکا اور اسرائیل سے ایران کی جنگ ہو رہی ہے۔ لوگ مزے لے لے کر تبصرے کر رہے ہیں کہ کل ایران نے بئر سبع برباد کر دیا ۔ آج اس نے تل ابیب کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔مگر غزہ میں امت کے لیے جنگ محض کھیل نہ تھا۔

جب اکتوبر 2023ء میں کسی جارحیت کے جواب میں نہیں، بلکہ طے شدہ منصوبے کے تحت امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس اور دیگر کے اسلحہ کے انبار اسرائیل نے غزہ پر برسا دیے۔ ایک طرف ہسپتالوں، سکولوں، کلیساؤں اور مساجد پر میزائل گر رہے تھے ۔ بالکل قریب ہی مقیم فلسطینیوں نے ایمانی حرارت کی آنچ تیز کر رکھی تھی۔ کسی ایک فرد کو کندھوں پر اٹھائے وہ مزاحمت کا اعلان کر رہے تھے اور کہیں خود مزاحمت کی علامت بنے ہوئے تھے۔ اسی دوران امریکہ کے وعدہ شکن اور عہد مزاحمت کی سچائیوں سے نابلد صدر ٹرمپ نے میں دو سال کی نسل کشی کے بعد 20 نکاتی امن پروگرام کا اعلان کر دیا۔

ہم اس بات کو کسی اور وقت پر اٹھائے رکھتے ہیں کہ ان کا بورڈ آف پیس کیا ہوا، انٹرنیشنل فورس کا کیا بنا، ٹونی بلیئر کدھر گئے یا کر دیے گئے وغیرہ۔ پھر اس اعلان نے سب کو چونکا ہی تو دیا تھا کہ حماس نے ٹرمپ پلان کو بعض تحفظات کے ساتھ قبول کر لیا ہے۔

اسرائیل کو اصرار تھا کہ حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے۔ جو کام دو سال کی بمباری نہ کر سکی، میزائلوں کی بارش حماس کی 80 سے زیادہ سرنگیں تباہ نہ کر سکی، وہ حماس کو غیر مسلح کیوں کر کرتی؟ پھر سوچا گیا کہ جو نتائج ایک لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو شہید کر کے حاصل نہ ہو سکے، وہ کام مذاکرات کی میز پر سر انجام دیا جائے۔ اس کے لیے شرم الشیخ مصر میں اسٹیج سجایا گیا۔ ثالث جمع ہوئے، نام نہاد منصف آن موجود ہوئے۔ تب تک دنیا کا ٹھیکے دار امریکا جس کے صدر ٹرمپ کو Art of Deal لکھنے کا اعزاز حاصل ہے، وہ بھی آئے۔ سبھی آئے پر تماشا مختصر ہوا۔ اصل فریقین میں سے صرف حماس کے وفد نے شرکت کی، دوسرا اور جارح فریق اسرائیل نہ آیا۔

پھر ایک میڈیا وار کا ساتھ ہی آغاز کر دیا گیا۔ شرم الشیخ میں ٹرمپ پلان پر عمل درآمد کے ابتدائی خد وخال طے کیے گئے، ان میں نمایاں نکات یہ تھے:

۔ اسرائیلی فوج غزہ خالی کر دے گی اور ییلو لائن کے پار چلی جائے گی۔ اس کے لیے کہیں یہ طے نہ ہوا کہ ییلو لائن کے اندر بفر زون بنایا جائے گا۔ اس شرط کے پیچھے عراق سے شام، پھر لبنان اور مصر کے اندر بفر زون بنانے کے تجربات بول رہے تھے۔

۔ ایک انتظامیہ غزہ کا انتظام سنبھالے گی مگر یہ کسی اعتبار سے فلسطینی اتھارٹی نہیں ہوگی۔

۔ ایک انٹرنیشنل فورس بنائی جائے گی۔ پولیس کا محکمہ از سز نو بنایا جائے گا جو حماس کی جگہ لے گا تاکہ غزہ میں امن و امان قائم کیا جائے(کسی نے نہیں سوچا تھا کہ امن و امان کے نام نہاد دعوے کے باوجود بھی منظم نسل کشی جاری رہی تو اس کو کون روکے گا)؟

ان نکات میں کہیں بھی ذکر نہیں کہ کس طرح اور کس مرحلے پر حماس غیر مسلح ہو گی۔ اس کے بجائے یہ کہا گیا تھا کہ علی شعت غزہ انتظامیہ کے سربراہ ہوں گے۔ یہ انتظامیہ اسرائیل نے قبول نہ کی اور اس کے دفاتر قاہرہ کے اندر چند بنکرز میں قائم کر دیے گئے۔ اس دوران میں اسرائیل نے ییلو لائن کے اندر غزہ کی طرف بفر زون قائم کر لیا۔ اب غزہ کا 60 فیصد حصہ عملی طور پر اسرائیل کے قبضہ میں تھا۔ جارح کو کسی ییلو لائن کی پرواہ تھی اور نہ ہی اورنج لائن کو وہ خاطر میں لاتا تھا۔

حماس نے ٹرمپ پلان کے اگلے نکتے پر، جو شرم الشیخ میں طے ہوا تھا، دنیا کو پھر چونکنے پر مجبور کر دیا۔ حماس نے غزہ کی حکومتی و انتظامی ذمہ داری نئی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ سب حیران تھے کہ:

محو حیرت ہوں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

یہ عرصہ یونہی نہیں گزرا تھا، اسماعیل ہنیہ، یحییٰ ابو ابراہیم السنوار، ابو عبیدہ اور کئی مجاہد راہنما شہید ہوئے۔ ان کے پوتے پوتیوں، نواسے، نواسیوں اور بیٹوں نے درجنوں کی تعداد میں جام شہادت نوش کیا۔ کیا یہ شہادتیں غیر مسلح ہونے کے لیے تھیں؟

اس سے پہلے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے یا نہ ہونے، نئی انتظامیہ کے علی شعت کی سربراہی میں غزہ آنے، نیا انتظامی ڈھانچہ تعمیر کرنے، سول انتظامیہ بحال کرنے کے اہم اقدامات کا غزہ پہنچ کر اعلان کرتی، بورڈ آف پیس کام کرتا، غزہ میں Riveria کے پرتعیش منصوبوں کا اعلان کرتا، علاقائی شہزادوں اور ایلون مسک کے منصوبے زیر بحث آئے، ٹونی بلیئر کہیں نظر آتے، اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھی۔ اکتوبر 2025ء سے اب تک 5 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید کر دیے گئے۔ کیا حماس کے غیر مسلح ہونے کا یہی موقع تھا؟

پھر ہوا کیا؟ نئی انتظامیہ اور اس کے حواری مداری جرأت ہی نہ کر سکے کہ وہ قاہرہ سے غزہ آئیں اور علی شعت کی سربراہی میں کام کریں۔ حماس نے تو نئی انتظامیہ کو پوری سپورٹ دینے کا اعلان کیا تھا، پھر نبی رحمت ّکے نام سے موسوم حکومتی مقتدرہ کی صدر نشینی پر فائر کالم نگار اور ان کے ہم نوا دانش وروں نے حماس کے غیر مسلح ہونے کا اعلان کر دیا۔ کہا اور لکھا گیا کہ "ایک ہزار مار کے ایک لاکھ ہی مروانے تھے تو اس سب کا کیا حاصل حصول؟”

یہ بڑی بڑی حقیقتیں بھی جاننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے موصوعات پر ان کا علم واجبی بھی نہیں ہوتا۔ وہ تو اب بھی اسرائیل کا یہ پروپیگنڈہ تسلیم کرتے ہیں کہ پہل حماس نے کی۔

اگر وہ ٹائمز آف اسرائیل، ہارٹز اور دیگر اسرائیلی میڈیا کا ہی سرسری مطالعہ کر لیتے، امریکی میڈیا کا سچ جاننے کے لیے برطانوی میڈیا ہی پڑھ اور سن لیتے، تو صورت حال واضح ہوجاتی۔ چلیں اس کو بھی چھوڑیں، اسرائیل کے ہی مختلف چینلز پر پیش کردہ حقائق جان لیتے تو کم از کم انہیں، بالخصوص فیس بکی دانشوروں کا یہ قبیلہ جان پاتا کہ وہ محض اسرائیل کا ٹوپی ڈرامہ تھا۔ حماس کے ہاتھوں مرنے والے اسرائِلیوں کی وہ 12 سو لاشیں کہاں ہیں؟ وہ عورتوں کے برہنہ و بریدہ جسم کہاں ہیں جن کا بڑا چرچا کیا گیا۔

اکتوبر 2023ء امریکی آشیر باد کی مدد سے جو بائیڈن، آنتونی بلنکن اور بنیامین نیتن یاہو کا رچایا گیا کھیل تھا۔ اس کے خلاف حماس نے ہتھیار اٹھائے اور اس کا اب یہی کہنا ہے کہ اس کے ہتھیار رکھنے حوالے نہ کرنے کی بھی ایک ہی شرط ہے کہ ٹرمپ پلان کے پہلے حصے کے عمل درآمد مرحلے پر اسرائیل کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے جنگی پاگل پن کو لگام دے، فلسطینی عوام کی نسل کشی بند کرے، اب یلو لائن یا اورنج لائن ختم کرے اور غزہ کو مکمل خالی کرے۔

اگر یہ اقدامات رو بہ عمل آتے ہیں، نئی انتظامیہ کو غزہ آنے دیا جاتا ہے تو حماس پولیس کے نظام کا حصہ تو بن سکتی ہے، غیر مسلح نہ کی جا سکی ہے اور نہ کی جا سکے گی۔ حماس کسی صورت غیر مسلح نہیں ہو گی۔ کسی میں جرأت ہے تو آئے اور غزہ کی سرنگوں میں ایک رات ہی بسر کر کے دکھائے۔ اور سب سے پہلے اس شب بسری کا تجربہ حماس کو مطعون کرنے والے دانش مندوں کو کرنا چاہیے تاکہ وہ مجاہدین القسام بریگیڈ کے ساتھ ذکر الٰہی اور درود ابراہیمی کی تسبیح کا لطف اٹھا سکیں ورنہ کم از کم اپنے کم علم ہونے کی سزا پوری ملت پاکستان کو نہ دیں۔

Tags: gazaGaza AggressionGaza resistanceGaza WarIranisraelPalestinian Resistance
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.