فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خالد مشعل نے ان خیالات کا اظہار ترکی کے شہر سلطان غازی میں ایک افطار پارٹی سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں سلطان غازی شہر کے میئر ھاد التوانائی سمیت ایک ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم ترکی کی ہمیشہ شکر گذار رہے گی۔ ترکی نے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔
خالد مشعل کا کہنا تھا کہ 2010ء میں غزہ کے لیے امدادی قافلہ لے جاتے ہوئے اسرائیلی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے شہداء مرمرہ کو فلسطینی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ترک صدر طیب ایردوآن نے فلسطینیوں کی حمایت میں جو جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا ہے وہ حاسدین کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
انہوں نے ترک قوم پر زور دیا کہ وہ فلسطینی قوم کی اس وقت تک مدد جاری رکھیں جب تک کہ فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں مل جاتا،جب تکÂ القدس آزاد اور مسجد اقصیٰ صیہونی تسلط سے نکل نہیں آتی۔
خالد مشعل نے کہا کہ فلسطینی قوم کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والوں کو تاریخ رسوا کرے گی اور جو فلسطینیوں کی مدد اور نصرت کرے گا اس کا نام تاریخ میں ہمیشہ چمکتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ القدس اور مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی میراث ہے اور یہ میراث ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی تاریخ کا بدترین جرم ہے مگر یہ جرم القدس کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ القدس عالم اسلام کا دارالحکومت ہے اور ہمیشہ رہے گا کیونکہ حق تمام طاقتوں پر بھاری ہے۔
حماس رہنما نے کہا کہ فلسطین کا ایک ایک بچہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو سے زیادہ فلسطین کے مستقبل کے بارے میں ادراک رکھتا ہے۔ صیہونی ریاست اپنی بقاء کے لیے امریکیوں سے مدد مانگتی ہے اور ہم اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔
