رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے معاشی حالات بہتر بنانے کے حوالے سے مجوزہ امریکی ڈونرکانفرنس میں فلسطینی اتھارٹی نے شرکت سے انکار کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن احمد مجدلانی نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کے معاشی حالات کی بہتری کے لیے ڈونرز کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔مبصرین نے فلسطینی اتھارٹی کے اس مبہم اقدام کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اسے فلسطینی اتھارٹی کی سوالیہ پوزیشن قرار دیا۔
یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کے معاشی حالات کی بہتری کے لیے امریکی کانفرنس میں اس لیے شرکت نہ کرنے کا فیصلہÂ فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی کارروائی کا حصہ ہے یا اس کا مقصد گیارہ سال سے جاری غزہ کے محاصرے کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھانا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اپریل میں صدر محمود عباس نے غزہ کی پٹی پر انتقامی پالیسی کے تحت نئی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ ان انتقامی کارروائیوں کے دوران غزہ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فی صد کمی کرنے کا اقدام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کے عوام کوصحت، تعلیم اور بجلی کے بحران کا شکار کردیا گیا تھا۔
غزہ کی پٹی پر مسلط معاشی محاصرے کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے امریکا نے 13 مارچ کو ایک ڈونر کانفرنس کی تجویز دی ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی ناکہ بندی کو کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
