الخلیل (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوج نے جنوری 2018ء کے دوران تاریخی جامع مسجد ابراہیمی میں 49 بار اذان کی ادائیگی پر پابندی لگائی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الخلیل شہر مین فلسطینی وزیر برائے اوقاف ومذہبی امور یوسف ادعیس نے کہا کہ صیہونی حکام ایک سازش اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسجد ابراہیمی میں نماز اور اذان کی ادائیگی پر قدغنیں لگا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست کی طرف سے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے مسجد ابراہیمی میں نماز اور اذان پر پابندیاں لگا رہی ہے۔
گذشتہ ماہ انچاس بار مسجد ابراہیمی میں اذان پر پابندی لگائی گئی۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب مسجد ابراہیمی میں اذان پر پابندی لگائی گئی بلکہ ہر ماہ میں چند نمازیں ایسی ہوتی ہیں کی اذان کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد ابراہیمی میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی فلسطینیوں کے مذہبی امور میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔ انÂ کا کہنا تھا کہ ہم صیہونی فوج کی طرف سے مسجد ابراہیمی میں نماز اور اذان کی ادائیگی پر پابندی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
ابو سنینہ کا کہنا تھا کہ مسجد ابراہیمی مسلمانوں کا مقدس مذہبی مقام ہے۔ اسرائیل فوجی طاقت کے ذریعے اسے فلسطینیوں سے غصب کرنا چاہتا ہے۔
