رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی سپریم کورٹ نے زخمی حالت میں گرفتار فلسطینی خاتون اسراء الجعابیص کو سنائی گئی 11 سال قید کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیل مسترد کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الجعابیص کے اہل خانہ نے بتایا کہ صیہونی سپریم کورٹ نے ان کی جانب سے دی گئی اپیل مسترد کردی۔ اس اپیل میں اسراء کو سنائی گئی گیارہ سال قید کی سزا پرنظرثانی کا مطالبہ گیا تھا مگر اسیرہ کی حالت تشویشناک ہونے کے باوجود اس کے کیس پر نظرثانی کی درخواست مسترد کردی گئی۔اسیرہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ اپیل مسترد ہونے کے بعد ہم نے اسرائیلی عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اسراء الجعابیص کے جسمانی اور نفسیاتی معائنے کے لیے ڈاکٹروں کو احکامات جاری کریں۔
خایل رہے کہ اسراء الجعابیص کو اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2015ء کو حراست میں لیا تھا۔ وہ غرب اردن سے بیت المقدس جا رہی تھیں کہ ان کی ذاتی گاڑی میں موجود گیس کا سیلنڈر دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس دھماکے میں وہ بری طرح جھلس کر زخمی ہوگئی تھیں مگر صیہونی فوج نے ان پر الزام عائد کیا کہ دھماکہ انہوں نے خود کیا تھا اور وہ اسرائیلی فوج پر حملے کے مشن پر تھیں۔
اسرائیلی عدالت نے فوج کی سفارش پر الجعابیص کو گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ادھر کلب برائے اسیران کے مطابق اسرائیل کی سالم فوجی عدالت نے 15 سالہ دو فلسطینی بچوں محمد حج محمد اور احمد زقزوق کی مدت حراست میں توسیع کر دی ہے۔ دونوں فلسطینی بچے زخمی حالت میں گرفتار ہیں۔
