مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صیہونی حکام نے ایک بزرگ فلسطینی سماجی کارکن جواد صیام کو بیت المقدس میں باب العامود، شاہراہ صلاح الدین اور شاہراہ سلطان سلیمان میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر جواد صیام کو پر صیہونی ریاست مخالف سماجی اور ابلاغی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام ہے اور اس الزام میں انہیں القدس کے کئی علاقوں سے بے دخل کیا گیا ہے۔ایک بیان میں جواد صیام نے بتایا کہ صیہونی پولیس نے انہیں گیسی غباروں کے ساتھ فلسطینی پرچم باندھ کر فضاء میں چھوڑنے کے الزام میں گرفتار کیا اور اس الزام میں ان سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ بعد ازاں انہیں پانچ ہزار شیکل کی ضمانت کے عوض رہا کیا گیا۔
صیام نے بتایا کہ ان کی گرفتاری امریکی نائب صدر مائیک پینس کے دورہÂ القدس کے دورانÂ ان کی احتجاجی سرگرمیوں کی وجہ سے عمل میں لائی گئی۔ مائیک پینس نے تین روز قبل اسرائیل کے دورے کے موقع پر مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار’دیوار براق‘ کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر فلسطینیوں نے امریکی نائب صدر کی آمد کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔
