فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کثیرالاشاعت عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی وزارت ثقافت و اسپورٹس نے مسجد اقصیٰ کے گرد مزعومہ ہیکل سلیمانی کی بنیادوں کی تلاش اور کھدائیوں کے لیے 20 کروڑ 50 لاکھ شیکل کی رقم مختص کی ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 70 ملین ڈالر یا سات کروڑ ڈالر کے برابر ہے۔
فلسطینی رکن پارلیمان اور القدس کے لیے قائم کردہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے رکن طلب ابوعرار نے قبلہ اوّل کے گرد کھدائیوں کے لیے بھاری رقوم مختص کیے جانے کو انتہائی خطرناک منصوبہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الاقصیٰ کے گرد اور اس کی بنیادوں تلے کھدائیاں مغربی، صیہونی ایجنڈے کا حصہ ہیں جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
طلب ابو عرار نے کہا کہ قبلہ اوّل کےارد گرد کھدائیوں کا سلسلہ نیا نہیں بلکہ مذکورہ خطیر رقم کے منصوبے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی انتہا پسندوں کی حکومت قبلہ اوّل کے وجود کو ختم کرنے کی گھناؤنی سازش کی مرتکب ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہ ظاہر اسرائیلی حکومت نے پرانے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے گرد کھدائیوں کو آثار قدیمہ کی تلاش کی اسکیموں کا نام دیا ہے مگر در پردہ اسرائیل مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کمزور کرکے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام کے وجود کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
