غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امیر قطر الشیخ تمیم بن خلیفہ آل ثانی نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کی شدید مذمت کی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس موقع پرامیر قطر نے امریکی صدر کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کےحوالے کرنے کے اعلان کوخطرناک اور ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا عالمی قراردادوں اور بین الااقوامی قوانین کی توہین ہے۔ قطر نے کھل کر فلسطینی کاز کی ہمیشہ حمایت کی اور آج بھی قطر فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔امیر قطر نے حماس رہنما سے بات کرتے ہوئے فلسطینیوں میں مصالحت کا عمل آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
امیر قطر کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی حکومت کے فیصلے پر عالمی رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ دیگر عالمی رہنماؤں سے بات چیت کے ساتھ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ان کے اقدام پر خبردار کیا ہے۔
اس موقع پر حماس رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت القدس کے دفاع اور اس کی آزادی کے لیے جدو جہد جاری رکھے گی۔
