رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق اور اسیران کے دفاع کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ نومبر 2017ء میں اسرائیلی عدالتوں سے مزید 7 فلسطینیوں کو عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کے شعبہ اطلاعات کے سربراہÂ ریاض الاشقر نے بتایا کہ عمرقید کی سزائیں پانے والے فلسطینیوں پر صیہونی آباد کاروں اور فوجیوں پر سنگ باری کرنے،Â صیہونیوں کو قتل اور زخمی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے اور انہی الزامات کے تحت انہیں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ عمر قید کی سزائیں پانے والے سات فلسطینیوں کے بعد صیہونی ریاست کی جیلوں میں عمر قید کے سز یافتہ قیدیوں کی تعداد 509 ہوگئی ہے۔ ان میں دسیوں اسیران سنہ 1993ء میں اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین’پی ایل او‘ کے درمیان طے پائے’اوسلو‘ سمجھوتے سے پہلے سے پابند سلاسل ہیں۔
نومبر میں عمر قید کی سزاؤں کا سامنا کرنے والے فلسطینیوں مین 23 سالہ نصر فیصل محمد بدوی اور اس کا بھائی 33 سالہ اکرم شامل ہیں۔ انہیں ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کے الزام میں عمر قید اور 60 ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔
زخمی فلسطینی 23 سالہ مالک احمد حامد کو دو لاکھ 80 ہزار شیکل جرمانہ، دو بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
جنین کے 43 سالہ اسیر محمد احمد کامل زکارنہ دو بار عمرقید اور 40 سال اضافی قید اور 3 لاکھ شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔
تین فلسطینی خالد محمد مخامرہ، 22Â اور 23 سالہ یونس عائش زین کو چار بار عمر قید، 60 سال اضافی قید اوعر 52 لاکھ 40 ہزار شیکل جرمانہ کی سزائیں سنائی گئیں۔
