واشنگٹن – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکا کے وفاقی تحقیقاتیÂ ادارے’ایف بی آئی‘ نے عالمی سطح کے ان مطلوب افراد ایک نئی فہرست جاری کی ہے جس میں امریکیوں کے قتل کےالزام میں 29 افراد کو اشتہاری قرار دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایف بھی آئی اب تک چار فلسطینی رہنماؤں کو دہشت گردی میں ملوث قرار دے کران کے نام بلیک لسٹ افراد کی فہرست میں شامل کیے ہیں۔ ان میں ایک نیا اضافہ اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل رمضان شلح کا ہے جنہیں گذشتہ روز بلیک لسٹ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ایف بی آئی کے مطابق ایف بی آئی نے اسلامی جہاد کے رہنما کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی ہے۔ 59 سالہ شلح پر الزام ہے کہ وہ فلسطین میں سلسلہ وار مزاحمتی حملوں کے الزام میں متعدد صہیونیوں اورامریکیوں کے قتل میں ملوث پائے گئے ہیں۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی جانب سے 37 سالہ سابق اسیرہ احلام التمیمی کو سنہ 2001ء میں بیت المقدس کے سپارو ہوٹل میں دو امریکیوں اور دو صہیونی آباد کاروں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ فلسطین کے تیسرے رہنما جو امریکا کی بلیک لسٹ کاحصہ ہیں 67 سالہ عبدالعزیز عودہ جو اسلامی جہاد کےبانی رہنما ہیں۔ چوتھی اہم شخصیت 71 سالہ حسین العمری افغانی نژاد فلسطینی ہیں جن کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے۔ ان پر 11 اگست 1982ء کو ایک امریکی طیارے کو بم سے اڑانے کی سازش میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا۔ دھماکے میں ایک مسافر ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے تھے۔
ایف بی آئی کی فہرست میں مطلوب ترین افراد میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔
