فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی شہروں میں احتجاجی مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب بیتÂ المقدس میں ایک فدائی حملے میں تین صہیونی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ یہ حملہ شمالی مغربی بیت المقدس سے تعلق رکھنے والےÂ ایک 37 سالہ شہری نمر جمل نے کیا تھا جس میں وہ خود بھی جام شہادت نوش کرگیا۔
قدس پریس کے مطابق صہیونی فوج نے نمر جمل کے آبائی شہر بیت سوریک اور اطراف میں فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپہ مار آپریشن شروع کیا۔ بیت سوریک اور القبیبہ قصبوں کے سیکڑوں شہری احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔ اس دوران صہیونی فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ شیلنگ میں فلسطینیوں کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایک مقامی سماجی اور امدادی کارکن عامر ابو عبید نے بتایا کہ بیت سوریک میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور دھاتی گولیوں کے استعمال سے کم سے کم سات فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
قدس پریس سے بات کرتے ہوئے ابو عبید نے کہا کہ صہیونی فوج کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ سے کم سے کم بیس افراد دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر اسکولوں کے طلباء شامل ہیں۔
مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ بیت سوریک اور القبیبہ میں شہریوں نے نمر جمل کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
بیت سوریک میں صہیونی فوج نے گھر گھر تلاشی کی مہم کئی گھنٹے جاری رکھی۔ بیت سوریک بلدیہ کےچیئرمین احمد جمال نے بتایا کہ صہیونی فوج نے تلاشی مہم کے دوران فلسطینی شہریوں بالخصوص گھروں میں موجود بچوں اور خواتین کو ہراساں کیا اور ان کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کیا گیا۔
احمد جمال نے بتایا کہ صہیونی فوج کی غیرانسانی کارروائی کے خلاف شہری احتجاج کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے اور انہوں نے صہیونی فوج کی پارٹیوں پر سنگ باری کی اور ان پر پٹرول بم پھینکے۔
ادھر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی متعدد مقامات پر فلسطینی شہریوں نے صہیونی فوج کے خلاف جلوس نکالے۔ صہیونی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور ان کے خلاف زہریلی اشک آور گیس استعمال کی گئی جس کے نتیجے میں دسیوں شہری دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ غرب اردن اور شمالی بیت المقدس کے کئی علاقے منگل کو اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان میدان جنگ کا منظر پیش کرتے رہے۔
