فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے غرب اردن اور بیت المقدس میں مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران سابق اسیرہ سمیت کم سے کم سولہ فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے وسطی اور جنوبی اضلاع ، الخلیل شہر، بیت لحم، بیت المقدس، رام اللہ اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے۔
صہیونی فوج نے الخلیل شہر میں جامعہ الخلیل کے مرکزی کیمپیس پربھی چھاپہ مارا Â جب کہ شہرمیں چھاپے کے دوران سابق اسیرہ اور طالبات رہنما سجود صالح الدراویش کو حراست میں لے لیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مغربی دورا میں الطبقہ میں تلاشی کے دوران مومن جمال ابو ھواش کو حراست میں لے لیا۔
الخلیل شہر کے جنوبی قصبے یطا میں اسرائیلی فوج نے گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران اسامہ العمور کو حراست لے لیا جب کہ سابق اسیر زوھر مخامرہ کو حراستی مرکزمیں طلب کرنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔
بیت لحم میں حوسان کے مقام پر تلاشی کے دوران اسرائیلی فوج نے دو فلسطینی نوجوانوں عبداللہ شوشہ اور غسان حمامرہ کو گرفتار کیا گیا جب کہ بیت فجار میں 45 سالہ حمیدان طقاطقہ اور اس کے بھائی حاتم طقاطقہ کو، مشرقی بیت المقدس میں ابو دیس میں یوسف احمد طقاطقہ، رام للہ سے محمد عریقات، بیت ریما سے المغنی الشعبی، محمد محمود طاھر البرغوثی، عمر العبد، ناجی علی الریماوی اور نزال البرغوثی کو حراست میں لیا گیا۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں تلاشی کے دوران 16 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے بیشتر فلسطینی اسرائیلی فوج اور صہیونی آباد کاروں پر مزاحمتی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
