فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن میں غٖیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے عہدیدار عبدالناصر فروانہ کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی طرف سے تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین، بچوں، ارکان پارلیمان اور سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران جاری رہنے والے کریک ڈاؤن میں کم سے کم دو سو فلسطینیوں کو پابند سلاسل کیا گیا ہے۔
ناصر فروانہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر وحشیانہ پابندی عائد کی ہیں۔ ان پابندیوں کے خلاف فلسطینی عوام سراپا احتجاج ہیں۔ زیادہ تر گرفتاریاں مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے نکالی جانے والی ریلیوں کے دوران عمل میں لائی گئیں۔
