فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 59 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو برسوں سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران 301 فلسطینی اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے جب 13 فلسطینی زخمی ہونے کے کچھ عرصے بعد جام شہادت نوش کرگئے۔
شہداء انتفاضہ القدس میں غرب اردن کا جنوبی شہر الخلیل 81 شہداء کے ساتھ سر فہرست ہے۔ اس کے بعد بیت المقدس میں 65، رام اللہ میں 35، جنین میں 27، نابلس میں 23، بیت لحم میں 23، طولکرم میں 9، سلفیت میں بھی چھ، قلقیلیہ میں چار، طوباس میں ایک اور غزہ کی پٹی میں 52 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
عمر کے اعتبار سے کل شہداء کا 29 فی صد بچوں پرمشتمل ہے جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔ کم عمر شہداء انتفاضہ کی تعداد 94 درج کی گئی ہے۔ ان میں 3 ماہ کا ایک شیر خوار رمضان محمد ثوابتہ بھی شامل ہے۔
تحریک انتفاضہ کے دوران 32 فلسطینی خواتین بھی جام شہادت نوش کرچکی ہیں۔ ان میں 16 کم عمر لڑکیاں شامل ہیں۔ ان میں سب کم عمر شہیدہ کی عمر 2 سال تھی جسے اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں بمباری کرکے شہید کیا۔
تحریک انتفاضہ کے شہداء کے جسد خاکی قبضے میں رکھنا بھی صہیونی ریاست کی منظم پالیسی ہے۔ اس وقت بھی 12 شہداء کے جسد خاکی اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔
