فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی عدالت نے 19 سالہ اسیر عمر جندب العبوشی کو تل ابیب میں ایک سال قبل صہیونی فوجی کو چاقو سے حملہ کرنے کے الزام میں جاری مقدمہ میں سنایا۔
انسانی حقوق کے ذریعے کے مطابق اسرائیلی پراسیکیوٹر کی جانب سے فلسطینی نوجوان کے خلاف پیش کی گئی فرد جرم میں تل ابیب میں ایک صہیونی فوجی پر چاقو سے حملے اور سنہ 1948ء کے علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق فلسطینی نوجوان نے فدائی حملے کی کوشش اور شہادت کی آروز لے کر ایک صہیونی فوجی پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جندب نے اپنے دوستوں کو بتایا تھا کہ وہ جلد ہی شہادت کے منصب پر فائز ہوگا۔ اس نے ایک 19 سینٹر میٹر لمبی چھری پکڑی اور ایک صہیونی فوجی کے سر اور گردن پر اس کے ذریعے وار کیے۔ حملے کے وقت اس نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ صہیونی آباد کار کو زخمی کرنے کے بعد وہ بہ حفاظت وہاں سے نکل گیا تاہم اسرائیلی فوج نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا تھا۔
