فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی پولیس نے مقامی وقت کے مطابق دن دس بجے مسجد اقصیٰ کے سوائے ایک کے باقی تمام دروازے بند کردیے۔ صرف ایک مراکشی دروازہ کھلا رکھا گیا جہاں سے صہیونی آباد کار بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے اور مذہبی رسومات ادا کرتے رہے۔ اس موقع پر بیت المقدس کے اسرائیلی پولیس چیف یوری لیوی بھی موجود تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج کی طرف سے صہیونی آباد کاروں کی موجودگی کے دوران تمام فلسطینیوں کے قبلہ اوّل میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعد ازاں چالیس سال سے زائد عمر کے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں جانے کی مشروط اجازت دی گئی تھی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی آباد کاروں کی آمد کے وقت مسجد اقصیٰ میں بڑی تعداد میں مسلمان نمازی موجود تھے۔ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے دروازے بند کرکے فلسطینی نمازیوں کو ایک ہال میں بند کردیا اور کسی فلسطینی کو باہر جانے کی جازت بھی نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ نام نہاد ہیکل سلیمانی ک پرچارک صہیونی تنظیم اور اسرائیلی وزیر زراعت اوری ارائیل نے گذشتہ روز صہیونی آباد کاروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جمعرات کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کریں۔
