بیت لحم – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ غرب اردن سے تعلق رکھنے والے سابق اسیر رہنما ثائر حلالہ کو الخضر قصبے سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی ایک گشتی پارٹی نے بیت لحم کے جنوب میں الشناس داخلی راستے پر ناکہ لگا کر شہریوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ اس دوران اسیر رہنما ثائر حلالہ اپنی گاڑی پر وہاں پرپہنچے توصہیونی حکام نے انہیں گاڑی سے اتارنے کے بعد ہتھکڑ لگائی اور ایک فوجی گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔خیال رہے کہ 35 سالہ سابق اسیر حلاہ کا تعلق غرب اردن کے شہر الخیل کے نواحی قصبے خاراس سے ہے۔ انہیں گذشتہ برس اکتوبر میں اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا تھا اور متعدد بار انتظامی حراست میں قید رکھنے کے بعد حال ہی میں رہا کیا گیا تھا۔
ثائر حلالہ اسلامی جہاد کے مقامی رہنما ہیں۔ وہ ماضی میں مجموعی طور پر 9 سال قید رہ چکے ہیں۔۔ کچھ عرصہ پیشتر انہوں نے بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف 78 روز تک مسلسل بھوک ہڑتال کی تھی۔
