مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی وزیر دفاع اور شدت پسند سیاست دان آوی گیڈور لائبرمین نے تجویز دی ہے کہ یہودی کالونیوں کو آئینی حیثیت دینے کا معاملہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے تک مؤخر کر دیا جائے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈو لائبرمین نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ Â اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ اس وقت تک یہودی کالونیوں کو آئینی حیثیت دینے کا متنازع معاملہ ملتوی کیا جائے۔صہیونی ریاست کے وزیردفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فلسطین میں یہودی آباد کاری کے معاملے پر ہم آہنگی موجود ہے۔
آوی گیڈور لائبرمین کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ کسی امن سمجھوتے کی توقع نہیں رکھتے۔ انہوں نے امن عمل میں تعطل کی ذمہ داری فلسطینی صدر محمود عباس پر عائد کی۔
اسرائیلی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ حال ہی میں صدر محمود عباس نے تحریک فتح کے کنونشن سے خطاب میں کہا تھا کہ ہم فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق سے دست بردار نہیں ہو سکتے۔ ان کے اس بیان کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کے روادار نہیں ہیں۔
