غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ غزہ کے علاقے خان یونس میں قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں کی جانب سے بے گھر افراد کے خیموں پر بمباری اور آگ لگانے کے نتیجے میں ایک بچی شہید ہو گئی۔
حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں کہا کہ "یہ بچی ان دسیوں ہزار بچوں میں شامل ہو گئی ہے جنہیں قابض اسرائیل نے بمباری، بھوک، علاج کی عدم فراہمی، خوف اور والدین یا ان میں سے کسی ایک سے محرومی کے ذریعے قتل کیا ہے۔”
انہوں نے نشاندہی کی کہ "یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہمارے ارد گرد کی دنیا سن رہی ہے اور دیکھ رہی ہے، لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔” انہوں نے عرب لیگ کے ممالک، ان کی جماعتوں، پارلیمانوں، علماء اور ایلیٹ کے مؤقف کے ساتھ ساتھ رام اللہ میں موجود فلسطینی اتھارٹی پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ وہ "اس طرح تماشا دیکھ رہے ہیں جیسے یہ سب کچھ کسی اور دنیا میں ہو رہا ہو”۔
حازم قاسم نے کہا کہ "یہ سب لوگ اللہ کے سامنے اس بچی کے مدِ مقابل ہوں گے، کیونکہ وہ اس سے پہلے ہونے والے جرائم پر طویل عرصے تک خاموش رہے۔ وہ غزہ کی سرزمین پر جاری اس جنونی نسل کشی کی جنگ میں شہید ہونے والے ہر شخص کے بھی مدِ مقابل ہوں گے”۔