• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

وکی لیکس رپورٹوں کے افشاء سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچا

جمعہ 03-12-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_besir-atalay-turkeys-interior-minister

ترکی کے وزیرداخلہ بشیرالاتائی نے کہا ہے کہ وکی لیکس کی عالمی سفارت کاری کے بارے میں افشاء ہونے والی خفیہ رپورٹوں سے سب سے زیادہ فاہدہ اسرائیل کو پہنچا ہے، کیونکہ اسرائیلی قیادت وکی لیکس کے افشاء اور عالمی سفارت کاری کے بے نقاب ہونے سے زیادہ خوش ہے. مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ترک وزیرداخلہ نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو انقرہ میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا. جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا وکی لیکس سے کون سے ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے، تو اس پر مسٹر لاتائی نے کہا کہ” وکی لیکس کی رپورٹوں سے مشرق وسطیٰ کے اس ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے جس کا عموما نام نہیں لیاجاتا. وہ ملک اسرائیل ہے اور اسرائیلی سرکردہ لیڈروں کو عالمی سفارتکاری کے خفیہ روابط کے بے نقاب ہونے پر بہت خوشی ہے”. ایک سوال کے جواب میں ترک وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے علاوہ انہیں ایسا کوئی ملک دکھائی نہیں دیتا جو وکی لیکس کی رپورٹوں پر شادیانے بجا رہا ہو ، اگر کسی ملک نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے تو وہ اسرائیل ہے . دوسری جانب حکمران جماعت”جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی” کے نائب صدر حسین جیلیک نے بھی اسی طرح کے خیالات کا ا ظہار کیا ہے. استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران حسین جیلیک نے کہا کہ "ہمیں یہ تجزیہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ کون سا ملک ہے جس نے وکی لیکس کی رپورٹوں پر خوشی کا اظہار کیا اور سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے. میرا خیال ہے وہ ملک صرف اسرائیل ہے، کیونکہ اسرائیل کے سوا دنیا کے کسی ملک کو وکی لیکس کی رپورٹوں اور عالمی سفارت کاری کے افشاء سے فائدہ نہیں پہنچا”. خیال رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان ان دنوں تعلقات نہایت کشیدہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بھی منقطع ہیں. تل ابیب اور استنبول کے درمیان تعلقات میں کشیدگی سنہ 2008ء میں غزہ پراسرائیلی حملے کے بعد اس وقت آئی جب ترکی نے اسرائیل کو ایک "جارح ریاست” قراردے کر اس حملے کی شدید مذمت کی. اس سال مئی کے آخر میں یورپ اور ترکی کے امدادی جہازوں کے غزہ جانے والے قافلے پر اسرائیلی فوج نے حملہ کر دیا. حملے میں قابض فوج نے کھلے سمندر میں ترکی کے مرمرہ جہاز میں داخل ہو کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ترکی کے نو شہری شہید ہو گئے. اس واقعے نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور سرد مہری پر جلتی پر تیل کا کام کیا. جس کے بعد ترکی نے اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں.

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.