• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

فلسطینی پارلیمنٹیرینز کی القدس سے بے دخلی، مسجد اقصی میں احتجاجی مظاہرہ

جمعہ 25-06-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_palestinian-women6

قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی مجلس قانون ساز کے تین ارکان اور ایک سابق وزیر کو مقبوضہ بیت المقدس سے نکالنے کےفیصلے کے خلاف مسجد اقصی میں نماز جمعہ کے بعد ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سیکڑوں نمازیوں نے شرکت کی۔ نماز جمعہ کے بعد جیسے ہی مارچ شروع ہوا شرکاء مسجد اقصی کے صحن میں جمع ہو گئے۔ مظاہرین نے اراکین پارلیمان کی تصاویر، جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ بینرز پر القدس کو یہودیانے کی کوشش کے خلاف نعرے درج تھے۔ اسی طرح مظاہرین نے فلسطینی پارلیمنٹیرینز کا ساتھ دینے اور ان کی القدس سے بے دخلی کے صہیونی فیصلے کے خلاف عبارات پر مشتمل بینرز بھی اٹھا رکھے تھے اس موقع پر مسجد اقصی کے خطیب مفتی شیخ محمد حسین نے نماز جمعہ کے خطبے میں صہیونی فیصلے کو ظالمانہ اور ناقابل قبول قرار دیا۔ مسجد اقصی کے خطیب کا کہنا تھا کہ القدس شہر، بستان کالونی اور شیخ جراح کالونی میں صہیونی مذموم کارروائیوں کا اصل مقصد بیت المقدس کے اصل باشندوں کو ان کے شہر سے نکالنا اور اس شہر کو یہودی شناخت میں رنگنا ہے۔ شیخ حسین نے اس نازک موقع پر فلسطینی قوم کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے درمیان اتحاد واتفاق کی بنیادیں واضح ہیں۔ ان کا دین ایک، رب ایک، قران ایک اور رسول ایک ہے۔ چنانچہ ان میں اتفاق ہونا چاہیے۔ انہوں نے ساری عرب اور اسلامی دنیا سے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے فوری عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب مسجد اقصی کے جنوب میں سلوان نامی علاقے میں ایک دوسرا احتجاجی مظاہرہ ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے مابین جھڑپ میں تبدیل ہو گیا۔ یہاں پر بھی فلسطینی مسلمان بستان کالونی کے صمود کیمپ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے مداخلت کر دی۔ اسی طرح ابوصلاح کے خاندان کے گھر کی زمین پر قبضے کی کوشش کرنے والے غاصب یہودیوں کے ساتھ فلسطینیوں کی جھڑپ ہوئی۔ یہودیوں نے ابو صلاح کے گھر پر قبضہ کی کوشش کی مگر فلسطینی نوجوانوں نے ان کی کوشش ناکام بنا دی۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.