• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

"فتح مفاہمت کو اسرائیلی و امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے”

جمعرات 23-12-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_ismael-al-ashqar-palestinian-lawmaker-mp

فلسطینی مجلس قانون ساز میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے پارلیمانی بلاک اصلاح و تبدیلی کے رکن اور حماس کے رہ نما اسماعیل اشقر نے کہا ہے کہ فتح فلسطینی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کو اسرائیل اور امریکا کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے. ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت صرف اسرائیل اورامریکا کے مفادات کے پیش نظر فلسطینی جماعتوں سے مذاکرات کی خواہاں ہے اس کا فلسطینی عوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں. اسماعیل اشقر نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کے روز غزہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا. انہوں نے کہا کہ فتح اب تک مسلسل یہ پروپیگنڈہ کرتی رہی ہے کہ وہ فلسطین میں قومی مفاد کے لیےمفاہمت کرنا چاہتی ہے لیکن حماس اس کی راہ میں مزاحم ہے. جبکہ حماس کی جانب سے مفاہمت کے سلسلےمیں جتنی کوششیں کی گئی ہیں فتح نے ان کا عشرعشیر بھی نہیں کیا. فتح مسلسل ٹال مٹول سے کام لے کر صرف اسرائیل اور امریکا کے مفاد کے لیے کام کرنا چاہتی ہے. حماس کے رہنما نے کہا کہ فلسطینی جماعتوں کے درمیان مفاہمتی فارمولہ مکمل طور پر تیار ہے لیکن فتح کی قیادت اس پر دستخط کرنے سے گریزاں ہے. ایک سوال کے جواب میں حماس کے رہ نما نے کہا کہ ان کی جماعت فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے اور وہ اپنے اصولی موقف سے کسی صورت میں بھی دستبردار نہیں ہو گی. اسماعیل اشقر نے فلسطینی اتھارٹی اور فتح سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی چپ پر کھیلنے کے بجائے فلسطینیوں کے حقوق کی جنگ لڑیں.خٰیال رہے کہ فلسطینی جماعتوں بالخصوص الفتح اور حماس کے درمیان مفاہمت کے سلسلے میں کوششیں گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ہیں تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان بعض نکات پر اختلافات موجود ہیں جن میں بنیادی اختلاف فلسطینی سیکیورٹی کے معاملات پر ہے جو حل نہ ہونے کی وجہ سے مفاہمت کا عمل تعطل کا شکار ہے. فتح مسلسل حماس پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ مفاہمت کے سلسلہ میں لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے جبکہ حماس کا موقف ہے فتح کا مطالبہ بلا جواز ہے کیونکہ لچک سے فتح کی مراد اسرائیل کوایک جائز ریاست تسلیم کرنا ہے. حماس ایسا نہیں کر سکتی.

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.