• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

سیکڑوں غاصب یہودیوں کا حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر پر دھاوا

پیر 14-06-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_hazrat-yusuf-tomb-in-nablus-city1

سیکڑوں غاصب یہودیوں نے اسرائیلی فوج کے تعاون سے مغربی کنارے کے شہر نابلس میں واقع حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک پر دھاوا بول دیا اور وہاں پر اپنے مذہبی شعائر کی بجا آوری کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز 300 کے قریب غاصب یہودیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کے احاطے پر دھاوا بولا اور تلمودی مذہبی عبارات پر مشتمل اپنے مذہبی شعائر کی بجا آوری کی۔ غاصب یہودیوں کی حمایت کے لیے 30 کے لگ بھگ اسرائیلی فوجی بھی موقع پر موجود تھے۔فلسطینی نوجوانوں نے ان غاصب یہودیوں کو باز رکھنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ان نوجوانوں اور اسرائیلی فوج کے مابین باقاعدہ جھڑپ شروع ہو گئی جس میں اسرائیلی فوج نے گولیوں کا بے دریغ استعمال کیا۔ نابلس شہر کے مشرقی علاقے بلاطہ میں واقع پیغمبر اسلام علیہ السلام کی قبر کی حفاظت کے لیے عباس ملیشیا بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ انتظام صہیونی سیکیورٹی تعاون کے تحت کیا گیا ہے۔ عباس ملیشیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر مزار میں داخل ہونے والے کسی بھی شخص کو روک لے۔ اسی طرح ان کا مرکزی فریضہ یہ ہے کہ صہیونی فوج کو اطلاع دیے چھپ کر قبر کی جانب آنے والے غاصب یہودیوں کو روکیں۔ یاد رہے کہ غاصب یہودیوں کے اس علاقے میں داخلے کے وقت ملیشیا عباس موقع سے غائب ہو گئی جس سے عباس ملیشیا کے اسرائیلی فوج سے سیکیورٹی تعاون کا معنی بھی واضح ہو گیا۔ اور معلوم ہو گیا ہے کہ غاصب یہودیوں کو مزار میں داخل کروانے میں عباس ملیشیا کا بھی پورا ہاتھ ہے۔ پچھلے سال انتہا پسند صہیونیوں نے متعدد مرتبہ اپنی فوج کے علم میں لائے بغیر حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار مبارک میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ جس پر عباس ملیشیا نے ان کو واپس صہیونی فوج کی جانب بھیج دیا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک یہودی انتہا پسندوں کے ہاں ایک مقدس اور بابرکت مقام ہے۔ کچھ روز قبل نابلس کے قریب غاصب یہودیوں نے ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں انہوں نے صہیونی فوج سے نابلس کے قریب فوجی ٹھکانہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کے قریب ان کی مدد کے لیے مستقل فوجی چیک پوسٹ قائم ہو سکے۔ صہیونی فوجیوں نے فلسطینی تحریک مزاحمت کے آغاز کے بعد پہلے انتفاضہ کے بعد اس وقت اس مقام کو خالی کیا تھا جب فلسطینیوں سے جھڑپ میں چار سے زائد صہیونی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.