• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

اسرائیل کی 150 مقدس مقامات کویہودی ورثہ قرار دینےکی تیاری

جمعہ 26-02-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

al-aqsa-mosque12 فلسطین میں اسلامی اور مسیحی کمیٹی برائے تحفظ مقدسات نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین میں 150 اہم مذہبی مقدس مقامات کو یہودی ورثہ قرار دیتے ہوئے انہیں یہودی آثار قدیمہ میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے، جن میں قبلہ اول اور عیسائیوں کا فلسطین میں مقدس مقام”کنیسہ القیامہ” بھی شامل ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جانب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدس مقامات کو یہودی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ اور150 مقامات کی فہرست کا اجرا براہ راست صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر سے کیا گیا ہے، جسے وزیراعظم نیتن یاھو کی منظوری حاصل ہے۔ بیان میں فلسطین میں مسلمانوں اور مسیحی مقدسات اور تاریخی مقامات کو یہودی تاریخی وراثت قرار دینے کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے مسلمانوں اور عیسآئیوں کے مقدس مقامات پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ایک سو پچاس مقدس مقامات کو یہوی تاریخی ورثہ قرار دینے کی کوششیں فلسطین میں یہودیت کو فروغ دینا اور یہاں سےمسلمانوں اور عیسیائیوں کے وجود کو ختم کرنا ہے۔ کمیٹی نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری اس فہرست سے متعلق کہا ہے کہ چونکہ فلسطین میں سترویں صدی عیسوی تک یہودیوں کے سوائے چند ایک عبادت گاہوں کے کسی مذہبی مقام کے وجود کے آثار نہیں ملتے، لہٰذا فلسطین میں یہودی اپنا مذہبی وجود تاریخی طور پر ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیل اس فہرست کو تاریخی مقامات کی ملکیت کے حوالے سے آئندہ اکتوبر میں ہونے والے یونیسکو کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور اس سے اس امر کی منظوری حاصل کی جائے گی کی فہرست میں شامل تمام مقدس مقام فلسطین میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے نہیں بلکہ یہودیوں کی تاریخی ملکیت ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں مذہبی مقامات کو یہودی تاریخ کا ورثہ قرار دینے کے مقاصد محض سیاسی ہیں، جن کا اصل مقصد فلسطین میں اسرائیلی تسلط کو مضبوط کرنا ہے۔ کمیٹی کی جانب سے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نے الخلیل میں مسجد ابراھیمی اور بیت لحم میں مسجد بلال بن رباح کو یہودی ورثہ قرار دیتے ہوئے ان کی تعمیر و مرمت کے لیے کئی ہزار ڈالر کا بجٹ فراہم کرنےکا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد فلسطین اور عرب ممالک میں اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.