فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے اقوام متحدہ کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں عالمی ادارے کی توجہ فلسطین میں نام نہاد سائبر جرائم قوانین اور اس کے آزادی اظہار اور ذرائع ابلاغ کی آزادی پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا احوال بیان کیا گیا ہے۔
یہ شکایتی مکتوب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تحفظ حق آزادی اظہار رائے کے خصوصی مندوب ڈیوڈ کائی کو ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے نام نہاد سائبر جرائم بل منظور کرکے ملک میں آزادی اظہار کے حق پر ایک نئی قدغن عائد کی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’الحق‘ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کو شکایت کی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی ملک میں ذرائع ابلاغ کے اداروں کو دبانے اور آزادی اظہار کو کچلنے کے لیے نام نہاد قوانین کا سہارا لے لی رہے۔ اس قانون کی آڑ میں فلسطینی صحافتی اداروں، آن لائن اخبارات اور نیوز ویب سائیٹس کی بندش کے ساتھ ساتھ ناپسندیدہ بلاگز اور دیگر اخباری اداروں کو بند کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ 9 جولائی 2017ء کو فلسطین کےسرکاری گزٹ میں ایک نیا ایکٹ شائع کیا گیا ہے جس میں فلسطین میں ناپسندیدہ قرار دیے گئے اخباری اداروں کو بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
