مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الخلیل شہر میں مقامی تعمیراتی فلسطینی کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اسامہ بن المنقذ اسکول کے بالمقابل سنہ 2000 ء سے اسرائیلی فوج کے حکم کے تحت بند صرافہ بازار کی کئی دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔ کئی دکانوں کی خفیہ طریقے سے توڑپھوڑ کی گئی ہے اور بعض دکانوں کو رہائشی فلیٹوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ بازار میں اب کوئی ایک دکان بھی محفوظ نہیں۔ سب میں موجود قیمتی سامان کو لوٹ لیا گیا ہے۔
کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2000 ء میں اسرائیلی فوج نے صرافہ بازار کی تمام دکانوں میں فلسطینیوں کا داخلہ بند کردیا تھا۔ بندش کے وقت کئی دکانوں میں فلسطینی شہریوں کا سامان بالخصوص زیوارت بھی موجود تھے۔ اسرائیلی فوج نے زیورات مالکان کو واپس کرنے کا یقین دلایا تھا لیکن اب تمام دکانیں لوٹی جا چکی ہیں۔ بازار کے معائنے سے پتا چلا ہے کہ قابض فوج نے نہ صرف دکانیں لوٹ لی ہیں بلکہ انہیں مسمار کرنے کے بعد نئی تعمیرات کے لیے کھدائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ بازار میں اسرائیلی حکام کی جانب سے کھدائی کے آلات کئی ماہ قبل پہنچا دیے تھے تاہم فلسطینیوں کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ خیال رہے کہ الخلیل میں واقع یہ بازار نہ صرف شہر کا بلکہ غرب اردن اور فلسطین کے بڑے صرافہ بازاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس بازار میں فلسطینیوں کی جیولری کی 22 بڑی اورکئی چھوٹی دکانیں تھیں جنہیں سنہ 2000 ء میں صہیونی فوج نے بند کرادیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ بازار مسلسل اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے جس میں موجود تمام دکانوں کو لوٹ لیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
