تازہ سروے رپورٹس میں بتایا گیا کہ جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا مگر اب وہ اسے برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہے ہیں۔
عبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ کی جانب سے شائع کیے گئے ایک تازہ سروے کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو کی عوامی مقبولیت صرف 38 فی صد رہ گئی ہے جبکہ غزہ جنگ کے بعد نیتن یاھو کی عوامی مقبولیت 50 فی صد اور اگست میں کیے گئے ایک جائزے میں 77 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی۔
رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 35 فی صد یہودیوں کی خواہش ہے کہ نتین یاھو دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوں۔ جبکہ غزہ جنگ کے بعد یہ تعداد 42 فی صد تھی۔47 فی صد رائے دہندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ نیتن یاھو سیاست ترک کردیں۔ 45 فی صد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو کو آئندہ بھی وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں آٹھ فی صد نے کوئی رائے نہیں دی۔
رائے عامہ کے جائزے میں اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے کے متنازعہ قانون کی منظوری پربھی سوالات کیے گئے۔ 41 فی صد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو نے یہ قانون اس لیے منظور کیا تاکہ وہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں لیکوڈ پارٹی کو دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیاب کرا سکیں۔ 40 فی صد یہودیوں کا خیال ہے کہ اس قانون کی منظوری سے اسرائیل کی عزت وقار میں اضافہ ہوگا اور یہودیوں کو اسرائیل میں تحفظ حاصل ہوگا۔
پیش آئند پارلیمانی انتخابات میں ممکنہ طور پر نتائج کیا ہوسکتے ہیں اور کون سی پارٹی کتنی سیٹیں حاصل کرسکے گی۔ اس پر یہودیوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ نیتن یاھو کی لیکوڈ پارٹی 24، لیکوڈ کے منحرف لیڈر موشے کحلون 12، یسرائیل بیتنو،11 یش عتید11، لیبر پارٹی 13، جیوش ہوم 12 نشستیں لے سکتی ہے۔
