سلفیت سے مقامی ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ بدھ کے روز بڑی مقدار میں تعمیرات کے شعبے میں استعمال کی جانے والی بھاری مشینری، سیمنٹ، بجری اور سریے کےدسیوں ٹرک "ارئیل” کالونی میں داخل ہوتے دیکھے گئےہیں۔ یہودی کالونی کے ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ تعمیراتی میشنری لائے جانے کے بعد کالونی کے اندر کئی درخت اکھاڑ دیے گئے ہیں جہاں پر یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔
ادھر فلسطین میں یہودی بستیوں کے امور کے ماہر خالد معالی کا کہنا ہے کہ سلفیت اور اس کے اس پاس کے علاقوں میں اسرائیل کی 23 یہودی کالونیوں میں راز داری میں یہودی توسیع پسندی کا عمل جاری ہے۔ آئے روز ان کالونیوں میں تعمیراتی میٹریل کی بھاری مقدار منتقل کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ سلفیت میں "ارئیل” یہودی کالونی سنہ 1978 ء کو قائم کی گئی تھی۔ اس وقت اس کالونی میں 35 ہزار یہودی آباد کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 23 ہزار یہودیوں کو باقاعدہ رہائیش فلیٹس الاٹ کیے گئے ہیں جو اپنے خاندانوں کے ہمراہ رہ ہے ہیں جبکہ اسی کالونی میں "ارئیل ” عبرانی یونیورسٹی میں 12 ہزار یہودی طلباء بھی شامل ہیں۔
