(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ)غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں میں جارحیت میں مزید شدت آ رہی ہے، جب کہ قابض فوج نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ اس نے اپنے حملوں کو طولکرم کے نور شمس کیمپ تک وسعت دے دی ہے۔ یہ حملے طولکرم شہر اور اس کے کیمپ، جنین شہر اور اس کے کیمپ، اور طوباس کے جنوب میں واقع الفارعہ کیمپ پر بھی جاری ہیں۔
اتوار کے روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کی بھاری فوجی گاڑیاں جنوبی الخلیل شہر میں گشت کر رہی ہیں۔ ان ویڈیوز میں بکتر بند ٹرانسپورٹ گاڑیاں پکی سڑکوں، بازاروں اور فلسطینی گھروں کے بیچ چلتی نظر آ رہی ہیں، جو 2002 میں مغربی کنارے پر حملے کے بعد سے ایک غیر معمولی منظر ہے۔
19 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی قابض فوج نے شمالی مغربی کنارے میں ایک وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
قابض صیہونی ریاست مغربی کنارے کو نشانہ بنانے کے لیے مزید نئے منصوبے بنا رہی ہے، جب کہ اس کا مسلسل جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ریاست محض قتل و غارت اور تباہی پر اکتفا نہیں کر رہی، بلکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کے بہانے نئے منصوبے تیار کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کا ہدف صرف مغربی کنارے میں قائم ناجائز صیہونی بستیاں ہی نہیں، بلکہ نام نہاد ’گرین لائن‘ کے اندر موجود وہ بستیاں بھی ہیں، جو رابطہ لائن اور علیحدگی دیوار کے قریب واقع ہیں۔
