فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست نشانہ بنانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ گذشتہ روز اسپتالوں میں لائے گئے سیکڑوں فلسطینی براہ راست فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔ انہیں انتہائی ماہر نشانہ بازوں نے نشانہ بنایا۔
ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی طرف سے پرامن فلسطینی مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے ان پر نامعلوم قسم کی مہلک زہریلی گیس استعمال کی گئی جس کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی اندھا دھند آنسوگیس کی شیلنگ سے متاثر ہونے والے فلسطینیوں کو دست، قے اور کھانسی جیسے عوارض کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن پربھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ترجمان نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فوج کے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کریں اور صیہونی ریاست کو نہتے مظاہرین پر وحشیانہ حربوں کے استعمال کی وجہ سے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
ڈاکٹر القدرہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نہ صرف مظاہرین کو نشانہ بناتی ہےبلکہ امدادی اداروں کے کارکنوں اور امدادی طبے عملے اور ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنا کر یہ ثابت کررہی ہے کہ اسرائیل میں جنگل کا قانون ہے اور صیہونی افواج کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔
