اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے رکن محمد نزال نے بتایا ہے کہ مصری حکومت نے فلسطینی تنظیموں کے درمیان مفاہمتی مذاکرات کی میزبانی سے انکار کردیا ہے۔
قبل ازیں حماس کے رہ نما ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے بتایا تھا کہ حماس اور الفتح کے درمیان مفاہمتی بات چیت منگل کو قاہرہ میں ہوگی اور مصری حکومت نے مفاہمتی بات چیت آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں حماس رہ نما محمد نزال نے کہا کہ مصر کی جانب سے معذرت کے بعد اب مفاہمتی بات چیت غزہ کی پٹی میں ہوگی جس میں حماس اور الفتح سمیت دوسری جماعتوں کے رہ نما بھی شرکت کریں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الفتح کی جانب سے حماس کے ساتھ مفاہمتی بات چیت کے لیے عزام الاحمد کی سربراہی میں پانچ رکنی مذاکراتی وفد کا اعلان کیا تھا۔ وفد میں جبرل الرجوب، صخر بسیسو، حسین الشیخ اور محمود العالول کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ تاہم اب یہی وفد قاہرہ کے بجائے غزہ کی پٹی میں حماس کی قیادت سے مذاکرات کرے گا۔
محمد نزال نے مغربی کنارے میں حماس کے خلاف الفتح کی قیادت کے منفی پروپیگنڈے کے تسلسل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ الزام تراشی سے مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس اور ان کی جماعت کے رہ نما حماس کے خلاف جس نوعیت کے الزامات عائد کررہے ہیں وہ قومی مفاہمتی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے الزام تراشی کی سیاست ترک کرنا پڑے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
