• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

مسلمانوں کی قبریں اور مزارات کی مسماری، نئی اسرائیلی جارحانہ پالیسی

منگل 24-07-2012
in فلسطین
0
plf israeli_policy
0
SHARES
3
VIEWS

انسانی حقوق کے یکجہتی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اتھارٹی نے فلسطین میں موجود تمام اسلامی آثار کو مٹانے کی ٹھان رکھی ہے۔

حالیہ عرصے میں فلسطین بھر میں مسلمانوں کے قبرستانوں اور مزاروں کو مسمار کرنا اسرائیلی حکام کا وطیرہ بن چکا ہے۔

انسانی حقوق یک جہتی فاؤنڈیشن کے تحقیق کار احمد طوباسی کا کہنا ہے کہ فاؤنڈیشن کی ایک تازہ ریسرچ کے مطابق اسرائیلی حکومت اس سال کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے اور 48ء کے مقبوضہ فلسطین کے اسلامی قبرستانوں پر چھ بڑے حملے کر چکی ہے۔

احمد طوباسی نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے گزشتہ چند دنوں کے دوران 1948ء سے اسرائیلی زیر تسلط فلسطین کے گاؤں مجدل کے قبرستان پر حملہ کیا ہے۔ یہاں پر درجنوں قبریں اکھاڑ پھینکی گئیں، یہ اس سال قبرستان پر اسرائیل کا پہلا حملہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی اسرائیل سال کے شروع سے پانچ قبرستانوں میں قبروں کی بے حرمتی کر چکا ہے۔
25 جنوری 2012ء کو غاصب یہودیوں کے ایک جتھے نے 48ء کے مقبوضہ فلسطین کے شہر بیسان کے قرستان پر حملہ کیا۔ 23 مارچ کو غاصب یہودیوں کے گروپ نے مقبوضہ مشرقی القدس میں مسجد اقصی سے متصل باب الرحمہ قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی کی، 09 اپریل کو مقبوضہ فلسطین کے علاقے عسقلان کے اسلامی قبرستان کو کاروں کی پارکنگ میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ پارکنگ قبرستان کے قریب یہودیوں کے تجارتی بازار کے لیے بنائی گئی۔

10 اپریل کو حیفا شہر کے قبرستان کی قبروں کو برابر کردیا گیا، صہیونی بلڈوزرز نے شامی اصل ایک بزرگ کا مزار بھی مسمار کردیا۔10  جون کو اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ نےانکشاف کیا کہ صہیونی کمپنی ’’سولیل بونے‘‘ نے مقبوضہ فلسطین کے شہر یافا میں شیخ مونس قبرستان کے قبروں اور مزاروں کو مسمار کرنا شروع کردیا ہے۔ اس مرتبہ قبروں کو برابر کرنے کا مقصد تل ابیب یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ہوسٹل اور تجارتی مرکز بنانا تھا۔ احمد طوباسی نے مسلمانوں کے قبرستانوں اور مزاروں کیخلاف اسرائیلی مہم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صہیونی حکومت کے یہ حملے عالمی معاہدوں، بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات کے بھی منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے قبرستان وقف اسلامی کا حصہ ہیں جنہیں اس طرح ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر مسلمانوں کے مقدس مقامات کی توہین پر مشتمل حملے روکنے کا دباؤ بڑھائے۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.