فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’باب الرحمۃ منزل‘ مسجد اقصیٰ کے حاطے میں واقع ایک عمارت ہے جو سنہ 2003ء Â تک فلسطینی ثقافتی شعبے کے زیراہتمام کلچرل کمیٹی کے زیراستعمال تھی۔ اس عمارت میں مذہبی اور ثقافتی نوعیت کے اجتماعات منعقد کیے جاتے Â تھے۔ سنہ 2003ء میں صہیونی پولیس نے پراسیکیوٹر کی ہدایت کے بعد اسے عارضی طور پر بند کردیا تھا اور کلچرل کمیٹی کے سربراہان کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس عرصے میں اسے معتدد مرتبہ کھولا بھی گیا۔
عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ’باب الرحمۃ منزل‘ کی نگران کلچر کمیٹی کا تعلق اسلاکی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ساتھ ہے۔
ادھر فلسطینی محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ کلچرل کمیٹی کوئی الگ سے تنظیم نہیں بلکہ وہ فلسطینی محکمہ اوقاف کے ماتحت ہے۔ اسرائیل دراصل فلسطینی محکمہ اوقاف کو مسجد اقصیٰ کی نگرانی اور دیگر انتظامی امور کی انجام دہی سے روک رہا ہے۔
اسرائیلی پولیس انسپکٹر نے عدالت میں ایک بیان دیتے ہوے کہا کہ انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مسجد اقصیٰ میں موجود ’باب الرحمۃ منزل‘ کو بند کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ عمارت ’دہشت گردی‘ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
