اردن کے نوجوان گروپوں نے اردن کے وزارت اوقاف کےدفتر کے سامنے ایک احتجاجی دھرنا دیا جس میں ھیکل سلیمان کی دوسری تباہی کی یاد میں یہودی آباد کاروں کے آج اتوار کے روز مسجد اقصی میں گھس کر تلمودی عبادات کی ادائیگی کی مہم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اردن کی نوجوان تنظیموں کے کارکنوں نے مسجد اقصی پر حملوں کی اسرائیلی مہم کے جواب میں اپنی حکومت سے احتجاج بلند کرنے اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس دوران نوجوانوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں سے ایک پر درج تھا ’’سرزمین اردن پر اسرائیلی سفارت خانہ نامنظور‘‘۔ ایک بینر پر درج تھا مسجد اقصی پر دھاوا بولا گیا تو ہم بھی اسرائیلی سفارت خانے پر دھاوا بولیں گے۔ نوجوانوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ایک رہنما نے اردنی حکومت سے فوری مداخلت کرکے مسجد اقصی پر یہودی دھاوں کو روکا جائے۔
