مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق جنگی صلاحیتوں پر نگاہ رکھنے والے صہیونی فوج کے ادارے کے سربراہ کا یہ تازہ بیان حال ہی میں اسرائیلی اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اپنے اس بیان میں مسٹر زلرکا کہنا ہے کہ ‘‘اگراسرائیل پر کسی جانب سے کیمیائی حملہ ہوتا ہے تو اس حملے کے نتیجے میں صہیونی ریاست کو سخت نقصان اٹھانا پڑے گا، بالخصوص یہودی آدیوں پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ اسرائیل میں 53 فی صد یہودی ایسے ہیں جن میں کیمیائی حملوں کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے ہیلمٹ نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں چالیس لاکھ یہودی ایسےہیں جو کیمیائی حملوں سے اپنا دفاع نہیں کرسکتے۔
صہیونی دفاعی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کے تمام شہروں تک میزائل حملوں کی رینج بڑھا لی ہے۔ غزہ سے اسرائیل کے تمام شہروں تک راکٹ حملے کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب صہیونی فوج کے پاس راکٹ حملوں سے دفاع کی صرف تیس فی صد تیاری ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
